بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 139 از 194
حدیث نمبر: 9880 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، فَأَغْلَظَ لَهُ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا"، وَقَالَ لَهُمْ:" اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ". فَقَالُوا: إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ، فَقَالَ:" اشْتَرُوا لَهُ فَأَعْطُوهُ"، فَقَالَ:" إِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ، أَوْ خَيْرُكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا اور اس میں سختی کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حقدار بات کرسکتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ خرید کرلے آؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ خرید کر دے دو، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 9881 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ شُعْبَةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُ بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ، أَوْ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَمَنْ هَاجَرَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَوْ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں جو شخص تین سے زیادہ اپنے بھائی سے بول چال بند رکھے اور مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9881]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لكن شك منصور في رفعه، فالصحيح من المرفوع هو قوله: « لا هجرة بعد ثلاث » ، م: 2562
الحكم: رجاله ثقات لكن شك منصور في رفعه، فالصحيح من المرفوع هو قوله: « لا هجرة بعد ثلاث » ، م: 2562
حدیث نمبر: 9882 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9882]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9883 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ". قَالَ: فَقَالَ عُكَّاشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ". قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: فَقَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کردی اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9883]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6542، م: 216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6542، م: 216
حدیث نمبر: 9884 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ حَجَّاجٌ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " أَمَا يَخْشَى، أَلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ، إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر یا اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 9885 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ" . أو قَالَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غَبِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ" . قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو عید نہ مناؤ بلکہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
حدیث نمبر: 9886 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ , أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ مُرَجِّلًا جُمَّتَهُ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ، إِذْ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" . وَقَالَ حَجَّاجٌ:" إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے نازوتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9886]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
حدیث نمبر: 9887 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا أُهْلِكَ أَهْلُ الْكِتَابِ قَبْلَكُمْ، أَوْ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ اخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، فَانْظُرُوا مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَاتَّبِعُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَدَعُوهُ أَوْ ذَرُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 9888 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے ہر عمل کفارہ ہے لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7538، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7538، م: 1151
حدیث نمبر: 9889 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَجِبَ اللَّهُ مِنْ أَقْوَامٍ يُجَاءُ بِهِمْ فِي السَّلَاسِلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جارہی ہوتی ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9889]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3010
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 9890 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَان، وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، أَوِ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، شُعْبَةُ شَكَّ فِي اللُّقْمَةِ وَالتَّمْرَة، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا" أَوْ" يَسْتَحِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور دوسروں سے بھی وہ لگ لپٹ کر سوال نہ کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9891 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلَتِ النَّارَ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 9892 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , قال: سَمِعْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 9893 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , قال: سَمِعْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا"، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، أَدَعُ يَوْمَ أَمُوتُ دِينَارًا، إِلَّا أَنْ أُرْصِدَهُ لِدَيْنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو میں ایک دینار بھی چھوڑ کر مرنا پسند نہیں کروں گا سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9893]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9894 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ النَّخَعِيَّ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ النَّخَعِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1875
الحكم: إسناده صحيح، م: 1875
حدیث نمبر: 9895 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَإِنَّ السَّكِينَةَ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَإِنَّ الرِّيَاءَ وَالْفَخْرَ فِي أَهْلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَأَهْلِ الْخَيْلِ، وَيَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ تَلَقَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَضَرَبَتْ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، هُنَالِكَ يُهْلَكُ , هُنَالِكَ يُهْلَكُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان (اور حکمت) یمن والوں کے ہاں بہت عمدہ ہے کفر مشرقی جانب ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52، 1380
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52، 1380
حدیث نمبر: 9896 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ وَلَا تَغْرُبُ بِأَفْضَلَ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَذَانِ الثَّقَلَانِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَعَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الْأَوَّلَ، فَالْأَوَّلَ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن سے زیادہ کسی افضل دن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا اور جن و انس کے علاوہ ہر جاندار مخلوق جمعہ کے دن گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے (کہ کہیں آج ہی کا جمعہ وہ نہ ہو جس میں قیامت قائم ہوگی) جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو درجہ بدرجہ پہلے آنے والے افراد کو لکھتے رہتے ہیں اس آدمی کی طرح جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کی پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے پرندہ پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا اور جب امام آکر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 9897 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَيَفِيضَ الْمَالُ فَيَكْثُرَ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالَ: قِيلَ: وَأَيُّمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ , الْقَتْلُ"، ثَلَاثًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس دجال ظاہر ہوجائیں ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے مال کی خوب کثرت ہوجائے گی فتنوں کا دور دورہ ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل قتل قتل (تین مرتبہ) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7121، 7061، م: 2672، 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7121، 7061، م: 2672، 157
حدیث نمبر: 9898 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، شُعْبَة ، الْعَلاء ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قََالَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاج، ٌفَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاج، غَيْرُ تَمَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 395
الحكم: إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 9899 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، شُعْبَة ، الْعَلاء ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1413
الحكم: إسناده صحيح، م: 1413