بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 11 از 194
حدیث نمبر: 7319 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْظُرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فَوْقَهُ فِي الْخَلْقِ أَوْ الْخُلُقِ أَوْ الْمَالِ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو جسم اور مال کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
حدیث نمبر: 7320 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ، وَالثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5392، م: 2058.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5392، م: 2058.
حدیث نمبر: 7321 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ، وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کر دیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے چنانچہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284.
حدیث نمبر: 7322 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِإِسْنَادِهِ" وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا، فَأَحْسَنَهُ، وَأَكْمَلَهُ، وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا هَذِهِ الثُّلْمَةَ، فَأَنَا تِلْكَ الثُّلْمَةُ". وَقِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَ هَذِهِ؟ قَالَ: أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ، عَنْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال ایسے ہے کہ ایک آدمی نے کوئی عمارت تعمیر کی اسے خوب حسین و جمیل اور کامل بنایا لوگ اس کے گرد چکر لگاتے جاتے اور کہتے جاتے کہ ہم نے اس سے خوبصورت کوئی عمارت نہیں دیکھی البتہ اگر یہ سوراخ بھی بھر دیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا (ختم نبوت کی عمارت کا) وہ سوراخ میں ہوں (جس نے اب اس عمارت کو مکمل کر دیا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286.
حدیث نمبر: 7323 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت أدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612.
حدیث نمبر: 7324 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ، لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ". قَالَ سُفْيَانُ: يَكُونُ حَوْلَ بِئْرِكَ الْكَلَأُ، فَتَمْنَعُهُمْ فَضْلَ مَائِكَ، فَلَا يَعُودُونَ أَنْ يَدَعُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ راوی حدیث سفیان اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے کنوئیں کے پاس گھاس ہو اور آپ لوگوں کو زائد از ضرورت پانی لینے سے روکیں تو وہ لوگ اپنے جانور چرانے کے لئے وہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566.
حدیث نمبر: 7325 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659.
حدیث نمبر: 7326 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَضْحَكُ مِنَ الرَّجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ جَمِيعًا" يَقُولُ:" كَانَ كَافِرًا قَتَلَ مُسْلِمًا، ثُمَّ إِنَّ الْكَافِرَ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَأَدْخَلَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کر دیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہو جائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کر دیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7326]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890.
حدیث نمبر: 7327 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَمْرٌو ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَمْرٌو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ :" إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کا سترواں جزء ہے اور دو مرتبہ اس پر سمندر کا پانی لگایا گیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں اللہ بندوں کا کوئی فائدہ نہ رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7327]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وله إسنادان، الأول: متصل، والثاني: مرسل، خ: 3265، م: 2843.
الحكم: حديث صحيح، وله إسنادان، الأول: متصل، والثاني: مرسل، خ: 3265، م: 2843.
حدیث نمبر: 7328 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ آمُرَ فِتْيَانِي، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فِتْيَانًا، فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَأْتُونَهَا، فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، إِذًا لَشَهِدَ الصَّلَوَاتِ". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" الْعِشَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے پھر اپنے نوجوانوں کو حکم دوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651.
حدیث نمبر: 7329 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ". قال عبدُ الله: قال أبى: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ" أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ"، فَقَالَ: أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر نام اس شخص کا ہو گا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6206، م: 2143.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6206، م: 2143.
حدیث نمبر: 7330 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي، وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7330]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
حدیث نمبر: 7331 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ! كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کر دیا جاتا ہے؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3533.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3533.
حدیث نمبر: 7332 مسند احمد
سُفْيَانَ ، أَبَا الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَيْتَ". قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: وهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7332]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851.
حدیث نمبر: 7333 مسند احمد
سُفْيَانَ ، أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرئَ عَلَى سُفْيَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَرَى خُشُوعَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا خشوع و خضوع دیکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 418، م: 423.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 418، م: 423.
حدیث نمبر: 7334 مسند احمد
سُفْيَانَ ، أَبَا الزِّنَادِ، ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ:" مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي، فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
حدیث نمبر: 7335 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) وقَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ : عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَغَتْ الدِّرْعُ، أَوْ أُمِرَّتْ، تُجِنُّ بَنَانَهُ، وَتَعْفُو أَثَرَهُ يُوَسِّعُهَا". قَالَ أَبُو الزِّنَادِ:" يُوَسِّعُهَا، وَلَا تَتَّسِعُ"، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ:" وَلَا يَتَوَسَّعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قمیص بعض اوقات کشادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات تنگ (مراد آدمی کی سخاوت اور کنجوسی ہے) وہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات کو مٹادیتی ہے اور کنجوس آدمی کشادگی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اسے کشادگی حاصل نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7335]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، له إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: فيه جريج مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، خ: 1443، م: 1021.
الحكم: حديث صحيح، له إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: فيه جريج مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، خ: 1443، م: 1021.
حدیث نمبر: 7336 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کر دیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564.
حدیث نمبر: 7337 مسند احمد
سُفْيَانَ ، أَبَا الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ:" إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6066، م: 2563.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6066، م: 2563.
حدیث نمبر: 7338 مسند احمد
سُفْيَانَ ، أَبَا الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ:" إِذَا كَفَى الْخَادِمُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ، فَلْيُجْلِسْهُ، فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً، فَلْيُرَوِّغْهَا فِيهِ، فَيُنَاوِلْهُ". وَقُرِئَ عَلَيْهِ إِسْنَادُهُ: سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تر بتر کر کے ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.