(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ، وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کر دیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے چنانچہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284.