بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 147 از 194
حدیث نمبر: 10040 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعَدٍ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبٍي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَاجٌ ، قَالَ أَخَبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعَدٍ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، فِيمَا أَرَاهُ شَكَّ شُعْبَةُ، عَنْ أَبٍي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " قُرَيْشٌ , وَالْأَنْصَارُ , وَأَسْلَمُ , وَغِفَارُ , وَجُهَيْنَةُ , وَمُزَيْنَةُ , وَأَشْجَعُ، مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریش انصار جہینہ مزینہ اسلم غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3504، م: 2520
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3504، م: 2520
حدیث نمبر: 10041 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قََالَ: بَهْزٌ، إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَة، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقِيلَ لَه: نَقَصَ مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ آخَرَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھولے سے ظہر کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے دو رکعتیں مزید ملائیں اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرلیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10041]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 10042 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قََالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَسْلَمُ , وَغِفَارُ , وَمُزَيْنَةُ , وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ حَجَّاجٌ: وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ , وَبَنِي عَامِرٍ , وَالْحَلِيفَيْنِ: أَسَدٍ , وَغَطَفَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسلم۔ غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنواسد۔ بنوعظفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3523، م: 2521
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3523، م: 2521
حدیث نمبر: 10043 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قََالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُول: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ یوں کہتا پھرے میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
حدیث نمبر: 10044 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، الْأَغَرُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ وَسَأَلَ الْأَغَرَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيث، فَحَدَّثَ الْأَغَرُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْكَعْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے " سوائے مسجد حرام کے " ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10045 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قََالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زُرَارَةَ ، قََالَ: حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ، سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تاآنکہ وہ واپس آجائے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 10046 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، هِلاَلًا الْمُزَنِيَّ أَوْ الْمَازِنِيّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ هِلاَلًا الْمُزَنِيَّ أَوْ الْمَازِنِيّ يُحَدِّثُ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " هَذِهِ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ دَوَاءٌ"، قَال شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ: شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا السَّامَ" ، قَالَ قَتَادَةُ: وَالسَّامُ: الْمَوْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10046]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10047 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، هِلَالِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّث، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ" ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَا السَّامُ؟ قَالَ: الْمَوْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10047]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10048 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قََالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قََالَ: حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ، قََالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُل، فَوَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10048]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
حدیث نمبر: 10049 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، هِلَالَ بْنَ يَزِيدَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَزِيدَ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ شَيْبَانَ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، لَيْسَ السَّامَ" ، وقَالَ قَتَادَةُ: السَّامُ الْمَوْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10049]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10050 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيك ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قََالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ بَشِيرِ بْنِ نَهِيك ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2626، م: 1626
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2626، م: 1626
حدیث نمبر: 10051 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ" فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، قَالَ: يَضْمَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1502
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1502
حدیث نمبر: 10052 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قََالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّه" نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مرد کو) سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5864، م: 2089
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5864، م: 2089
حدیث نمبر: 10053 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10053]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى هريرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبى هريرة
حدیث نمبر: 10054 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى غُلَامِ الْمُسْلِمِ وَلَا عَلَى فَرَسِهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10054]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 10055 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَصِين ، ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ أَبِي حَصِين ، قََالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَصَوَّرُ بِي , قَالَ شُعْبَةُ: أو قال: لَا يَتَشَبَّهُ بِي. " وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 110، 6993، م: 3 ، 2266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 110، 6993، م: 3 ، 2266
حدیث نمبر: 10056 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قََالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ، قَالَ حَجَّاجٌ: أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ: لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10056]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم
حدیث نمبر: 10057 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا، لَتَنَاوَلَهُ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10057]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 10058 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اشْتَرَى شَاةً فَوَجَدَهَا مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ، فَلْيَرُدَّهَا إِنْ شَاءَ , وَيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151 ، م : 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151 ، م : 1524
حدیث نمبر: 10059 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" ، يَعْنِي: نِسَاءَ قُرَيْشٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527