بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 44 از 194
حدیث نمبر: 7979 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً، يَعْنِي مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1442.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1442.
حدیث نمبر: 7980 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ أَنْ تَضْرِبُوا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ، يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، لَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" . وَقَالَ قَوْمٌ: هُوَ الْعُمَرِيُّ، قَالَ: فَقَدَّمُوا مَالِكًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ زمانہ قریب ہے کہ جب لوگ دور دراز سے حصول علم کے لئے سفر پر نکلیں گے اس وقت وہ مدینہ منورہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ پائیں گے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا اور لوگ امام مالک رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7980]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، وكذا أبو الزبير.
الحكم: إسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، وكذا أبو الزبير.
حدیث نمبر: 7981 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي سُهَيْلًا ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي سُهَيْلًا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُهُمْ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ صَنْعَةَ طَعَامِهِ، وَكَفَاهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا، ثُمَّ لِيُعْطِهَا إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اور اس کی گرمی سردی میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تربتر کر کے ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.
حدیث نمبر: 7982 مسند احمد
أَبِي قُرَّةَ الزُّبَيْدِيِّ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ الزُّبَيْدِيِّ مُوسَى بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أو عَنْ أَحَدِهِمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتُحِبُّونَ أَنْ تَجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ؟ قُولُوا: اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْرِكَ، وَذِكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم دعا میں خوب محنت کرنا چاہتے ہو؟ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ اپناشکر ادا کرنے اپنا ذکر اور اپنی بہترین عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7983 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7983]
حکم دارالسلام
صحيح، وقد وقع في هذا الحديث اختلاف كبير على قتادة، وأيضا عارضه حديث عائشة عند البخاري: 514، ومسلم: 512.
الحكم: صحيح، وقد وقع في هذا الحديث اختلاف كبير على قتادة، وأيضا عارضه حديث عائشة عند البخاري: 514، ومسلم: 512.
حدیث نمبر: 7984 مسند احمد
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِذَا شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعِي كَانَ لَهُ أَعْظَمُ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ أَوْ شَاتَيْنِ لَفَعَلَ، فَمَا يُصِيبُ مِنَ الْأَجْرِ أَفْضَلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ میرے ساتھ نماز میں شریک ہونے پر اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں شرکت کرے حالانکہ اس پر ملنے والا اجر اس سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651.
حدیث نمبر: 7985 مسند احمد
مُعَاذٌ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً يَعْنِي مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " انْظُرْ إِلَيْهَا، يَعْنِي أَنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرد سے فرمایا کہ اسے ایک نظر دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6777.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6777.
حدیث نمبر: 7986 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اضْرِبُوهُ"، قَالَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، وَلَكِنْ قُولُوا: رَحِمَكَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب نوشی کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے مارو چنانچہ ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھوں سے مارا کسی نے جوتیوں سے اور کسی نے کپڑے سے ماراجب وہ واپس چلا گیا تو کسی نے اس سے کہا اللہ تجھے رسوا کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بات نہ کہو اس کے معاملے میں شیطان کی مدد نہ کرو بلکہ یوں کہو اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042.
حدیث نمبر: 7987 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: قال إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ : عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، بِالْكُوفَةِ، قَالَ: وكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوْلَانَا قَرَابَةٌ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ مَوْلَى الْأَحْمَسِ فَاجْتَمَعَتْ أَحْمَسُ، قَالَ قَيْسٌ: فَأَتَيْنَاهُ نُسَلِّمُ عَلَيْهِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فَأَتَاهُ الْحَيُّ فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَؤُلَاءِ أَنْسِبَاؤُكَ أَتَوْكَ يُسَلِّمُونَ عَلَيْكَ وَتُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: مَرْحَبًا بِهِمْ وَأَهْلًا، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ، لَمْ أَكُنْ أَحْرَصَ عَلَى أَنْ أَعِيَ الْحَدِيثَ مِنِّي فِيهِنَّ، حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ، فَيَسْأَلَهُ، أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ" . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ: " قَرِيبٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ السَّاعَةِ سَتَأْتُونَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہمارے مہمان بنے ان کے ہمارے آقاؤں کے ساتھ کچھ تعلقات قرابت داری کے تھے ہم ان کے پاس سلام کے لئے حاضر ہوئے تو میرے والد صاحب نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ آپ کے ہم نسب لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ کو سلام کریں اور آپ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خوش آمدید کہا اور فرمایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفاقت میں تین سال رہا ہوں جماعت صحابہ میں ان تین سالوں کے درمیان حفظ حدیث کا مجھ سے زیادہ شیدائی نہیں رہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے واللہ تم میں سے کوئی آدمی رسی لے اور اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پیٹھ پر لادے اور اس کی کمائی خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنے فضل سے مال و دولت عطاء فرما رکھا ہو اور اس سے جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے دے یا نہ دے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا قیامت کے قریب تم ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3591، م: 2912.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3591، م: 2912.
حدیث نمبر: 7988 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْوَاسِطِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ الله: " اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي، وَيَشْتُمُنِي عَبْدِي وَهُوَ لَا يَدْرِي، يَقُولُ: وَادَهْرَاهْ، وَادَهْرَاهْ، وَأَنَا الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے نہیں دیا اور میرا بندہ مجھے انجانے میں برا بھلا کہتا ہے اور یوں کہتا ہے ہائے زمانہ ہائے زمانہ حالانکہ زمانے کا خالق بھی تو میں ہی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7988]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6181، م: 2246، إسناده حسن، محمد بن إسحاق- وإن عنعن- قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6181، م: 2246، إسناده حسن، محمد بن إسحاق- وإن عنعن- قد توبع.
حدیث نمبر: 7989 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا، وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے قرآن میں جھگڑنا کفر ہے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا اس لئے جو تمہیں سمجھ آجائے اس پر عمل کرو اور جو سمجھ نہ آئے اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو (اس سے پوچھ لو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7990 مسند احمد
أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا اللہ اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7991 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ، قَالَ سُلَيْمَانُ:" كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتًا لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرأت کرتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7991]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7992 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونيَ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ. قَالَ:" لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ، فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں میں ان سے درگذر کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر واقعۃ حقیقت اسی طرح ہے جیسے تم نے بیان کی تو گویا تم انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اپنی روش پر قائم رہوگے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2558.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2558.
حدیث نمبر: 7993 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أَتَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْمَقْبَرَةِ، فَقَالَ:" سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ"، ثُمَّ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا"، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ بَعْدُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ، أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبرستاں تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آ کر ملنے والے ہیں پھر فرمایا کہ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ سکیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور جن کا میں حوض کوثر پر منتظر ہوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے جو امتی ابھی تک نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کا سفید روشن پیشانی والا گھوڑا کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچان سکے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر وہ لوگ بھی قیامت کے دن وضو کے آثار کی برکت سے روشن سفید پیشانی کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا انتظار کروں گا۔ پھر فرمایا یاد رکھو تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو بھگایا جاتا ہے میں انہیں آواز دوں گا کہ ادھر آؤ لیکن کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 249.
الحكم: إسناده صحيح، م: 249.
حدیث نمبر: 7994 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ، الْمُؤْمِنُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، يَغَارُ يَغَارُ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761.
حدیث نمبر: 7995 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ، وَيَمْحُو بِهِ الْخَطَايَا؟ كَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے؟ کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 251.
الحكم: إسناده صحيح، م: 251.
حدیث نمبر: 7996 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2582.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2582.
حدیث نمبر: 7997 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيِّ ، حَفْصِ بْنِ حُمَيْدٍ ، زِيَادُ بْنُ حُدَيْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيِّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ حُدَيْرٍ : " وَدِدْتُ أَنِّي فِي حَيِّزٍ مِنْ حَدِيدٍ، مَعِي مَا يُصْلِحُنِي، لَا أُكَلِّمُ النَّاسَ وَلَا يُكَلِّمُونِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ میں لوہے کی کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں میرے پاس صرف ضرورت کی چیزیں ہوں نہ میں کسی سے بات کروں اور نہ کوئی مجھ سے بات کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7997]
حکم دارالسلام
هذا أثر وليس بحديث.
الحكم: هذا أثر وليس بحديث.
حدیث نمبر: 7998 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: " لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے تقدیر ٹل نہیں سکتی البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.