سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي سُهَيْلًا ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي صَالِحٍ يَعْنِي سُهَيْلًا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُهُمْ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ صَنْعَةَ طَعَامِهِ، وَكَفَاهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُرَوِّغْهَا، ثُمَّ لِيُعْطِهَا إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اور اس کی گرمی سردی میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تربتر کر کے ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.