بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 21 از 194
حدیث نمبر: 7519 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ، وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور امام نکل آتا ہے تو فرشتے وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننے لگتے ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا بکری قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر بطخ پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ دینے والے کی طرح ثواب پاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7519]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7520 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1384، م:.2659.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1384، م:.2659.
حدیث نمبر: 7521 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ يَخْلُقُ كَخَلْقِي! فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ایک مکھی یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7521]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7559، م: 2111.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7559، م: 2111.
حدیث نمبر: 7522 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت حبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7522]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7523 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَوْفٍ ، خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً، فَحَلَبَهَا، فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ: بِالْخِيَارِ إِلَى أَنْ يَحُوزَهَا، أَوْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ایک برتن گندم بھی ساتھ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7523]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2151، م: 1524، إسناده متصل من جهة محمد، ومنقطع من جهة خلاس، فإنه يسمع من أبي هريرة.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2151، م: 1524، إسناده متصل من جهة محمد، ومنقطع من جهة خلاس، فإنه يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7524 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَوْفٍ ، خِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ، حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ، فَأَكَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خوب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کردے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7524]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس بن عمرو لم يسمع من أبي هريرة، لكن توبع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، خلاس بن عمرو لم يسمع من أبي هريرة، لكن توبع.
حدیث نمبر: 7525 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَوْفٍ ، خِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے پھر اس سے وضو کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7525]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 239، م: 282، وإسناده كسابقه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 239، م: 282، وإسناده كسابقه.
حدیث نمبر: 7526 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَوْفٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7527 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ، فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنواری بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور ہوگی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7527]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده حسن، خ: 6970، م: 1419.
الحكم: صحيح، وإسناده حسن، خ: 6970، م: 1419.
حدیث نمبر: 7528 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751.
حدیث نمبر: 7529 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى، الأَنبِياءُ إِخْوَةٌ بَنُو عَلَّاتٍ، وليسَ بَيْني وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365.
حدیث نمبر: 7530 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم کو خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6487، م: 2823.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6487، م: 2823.
حدیث نمبر: 7531 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَبُو مَوْدُودٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَوْدُودٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَدْفِنْهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوکنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ دور چلا جائے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7531]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن خ: 416، م: 550.
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن خ: 416، م: 550.
حدیث نمبر: 7532 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو۔ لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7532]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
حدیث نمبر: 7533 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، الصَّلْتِ بْنِ غَالِبٍ الْهُجَيْمِيِّ ، مُسْلِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ غَالِبٍ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا، قَالَ:" يَا ابْنَ أَخِي، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَهِيَ مُنَاخَةٌ، وَأَنَا آخِذٌ بِخِطَامِهَا، أَوْ زِمَامِهَا وَاضِعًا رِجْلِي عَلَى يَدِهَا، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَامُوا حَوْلَهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي يَلِيهِ، عَنْ يَمِينِهِ، فَشَرِبَ قَائِمًا، حَتَّى شَرِبَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ قِيَامًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کھڑے ہو کر پانی پینے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے! میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی سواری کو باندھا وہ بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے اس کی لگام اس طرح پکڑ رکھی تھی کہ میرا پاؤں اس کے ہاتھ پر تھا اتنی دیر میں قریش کے کچھ لوگ آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگرد کھڑے ہوگئے اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک برتن لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سواری پر ہی اسے نوش فرمایا پھر دائیں جانب والے صاحب کو مرحمت فرما دیا انہوں نے اسے کھڑے کھڑے پی لیا یہاں تک کہ سب لوگوں نے ہی کھڑے کھڑے وہ دودھ پیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7533]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لجهالة الصلت ومسلم.
الحكم: إسناده ضعيف، لجهالة الصلت ومسلم.
حدیث نمبر: 7534 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7534]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 691، م: 427.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427.
حدیث نمبر: 7535 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يُؤْمِنُ الَّذِي يَرْفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7536 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7536]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، خ: 1178، م: 721، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه.
الحكم: رجاله ثقات، خ: 1178، م: 721، الحسن البصري مدلس، وقد عنعنه.
حدیث نمبر: 7537 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، أَوْ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ، وَلَمْ يُصَلِّ، حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ:" بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں لوگوں نے یا ایک آدمی نے ایک شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں آدمی ساری رات سوتا رہا اور فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی یہاں تک کہ صبح ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7537]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عنعنة الحسن البصري.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عنعنة الحسن البصري.
حدیث نمبر: 7538 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7538]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.