بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 81 از 194
حدیث نمبر: 8720 مسند احمد
مَكِّيٌّ ، هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كِنَانَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا تَحْتَ ثَنِيَّةِ لِفْتٍ، طَلَعَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: " انْظُرْ مَنْ هَذَا" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے جب ثنیہ لفت کے نیچے پہنچے تو سامنے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ طلوع ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا کتنا پیارا بندہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8720]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية إسحاق عن أبى هريرة مرسلة
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية إسحاق عن أبى هريرة مرسلة
حدیث نمبر: 8721 مسند احمد
مَكِّيٌّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 8722 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أَبُو سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُه، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، التَّقْوَى هَاهُنَا، يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثًا، بحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ دھوکہ نہ دو بغض نہ رکھو۔ قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو قابل احترام ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8722]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده جيد م: 2564
الحكم: حديث صحيح، وإسناده جيد م: 2564
حدیث نمبر: 8723 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ المُبَارَكٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ:" إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8723]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8724 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، ابْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي؟ قَالَ: " فَانْشُدْ اللَّهَ"، قال: فَإِنْ أَبَوْا، قال:" فانشُدِ اللهِ"، قال: فإنْ أَبَوْا، قال:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے مال پر دست درازی کرے تو میں کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے اللہ کا واسطہ دو اس نے پوچھا اگر وہ نہ مانے تو؟ فرمایا پھر اللہ کا واسطہ دو تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے قتال کرو اگر تم مارے گئے تو جنت میں اور اگر تم نے اسے مار دیا تو جہنم میں جاؤگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8724]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 140، وسقط من هذا الإسناد عمرو من بين يزيد وابن مطرف
الحكم: حديث صحيح، م: 140، وسقط من هذا الإسناد عمرو من بين يزيد وابن مطرف
حدیث نمبر: 8725 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ" . " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" . " وَلَا يَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ" . " وَمِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ يَوْمَ وِرْدِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پتھر سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ جب کوئی کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔ اور زائد پانی استعمال کرنے سے کسی کو روکا نہ جائے کہ اس کے ذریعے زائد گھاس روکی جا سکے۔ اور اونٹ کا حق ہے کہ جب اسے پانی کے گھاٹ پر لایا جائے تب اسے دوہا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8725]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن، خ: 2354، 161 م: 237، 1566
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن، خ: 2354، 161 م: 237، 1566
حدیث نمبر: 8726 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَعَمَّ وَخَصَّ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایک قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے گروہ قریش! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو کعب بن لؤی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو عبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو ہاشم! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8726]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 8727 مسند احمد
حُسنٌ ، شَيْبَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا" يَعْنِي فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8728 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَبَى"، قَالُوا: وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا ہر امتی قیامت کے دن جنت میں داخل ہوجائے گا سوائے انکار کرنے والوں کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنم نے پوچھا یارسول اللہ! انکار کرنے والے کون ہیں؟ فرمایا جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ انکار کرنے والا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8728]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 7280
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 7280
حدیث نمبر: 8729 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِي مَجْلِسِهِ حَدِيثًا، جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَة؟ قَالَ: فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟" قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا ضُيِّعَتْ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَوْ قَالَ مَا إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ:" إِذَا تَوَسَّدَ الْأَمْرَ غَيْرُ أَهْلِهِ، فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی مجلس میں بیٹھے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اس پر کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات سن تو لی لیکن ناگواری گذری اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات سنی ہی نہیں حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنی بات مکمل کرچکے تو فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یہ موجود ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب امانت ضائع ہونے لگے تو قیامت کا انتظار کرو اس نے پوچھا یا رسول اللہ امانت ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جب معاملات نااہلوں کے سپرد کئے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8729]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 59
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 59
حدیث نمبر: 8730 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تھا جس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا تھا البتہ وہ لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے قاصد سے کہہ دیتا تھا کہ جو آسانی سے دے سکے اس سے واپس لے لینا اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر فرما لے جب وہ فوت ہوا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب میں اپنے غلام کو قرض کا تقاضا کرنے کے لئے بھیجتا تو اس سے کہہ دیتا تھا کہ جو آسانی سے دے سکے اس سے واپس لے لینا اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دینا اور درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر فرما لے اس پر اللہ نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے درگذر کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8730]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، خ: 3480، م: 1562
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، خ: 3480، م: 1562
حدیث نمبر: 8731 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ الأَنْدرَاَوَرْدِى ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الأَنْدرَاَوَرْدِى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ عِنْدِي لبِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ، يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری نگاہوں میں اپنے بندہ مومن کے لئے ہر موقع پر خیر ہی خیر ہے وہ میری حمد بیان کر رہا ہوتا ہے کہ میں اس کے دونوں پہلؤوں سے اس کی روح کھینچ لیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8731]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8732 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ، وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ كَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیواؤں اور مسکینوں کی خدمت کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو ساری رات قیام اور سارا دن صیام میں رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8732]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5353، م: 2982
الحكم: صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5353، م: 2982
حدیث نمبر: 8733 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا، أَدَّاهَا اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ إِتْلَافَهَا، أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَل" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال (قرض پر) اداء کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ وہ قرض اس سے اداء کروا دیتا ہے اور جو ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ اسے ضائع کروا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8733]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2387
الحكم: صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2387
حدیث نمبر: 8734 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، مَالِكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَفْعَلْ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھالے بعد میں اسی کام میں بھلائی نظر آئے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور جس کام میں بہتری ہو وہ کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1650
الحكم: إسناده صحيح، م: 1650
حدیث نمبر: 8735 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، مَالِكٌ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ، عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8735]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 8736 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاء، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ، لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ فَخْرَهُمْ بِرِجَالٍ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِدَّتِهِمْ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتَنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تعصب اور اپنے آباواجداد پر فخر کرنا دور کردیا ہے۔ اب یا تو کوئی شخص متقی مسلمان ہوگا یا بدبخت گناہ گار ہوگا سب لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی لوگ آپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ اس بکری سے بھی زیادہ حقیرہوں گے جس کے جسم سے بدبو آنا شروع ہوگئی ہو اور وہ اسے اٹھانے کے لئے پیسے دینے پر تیار ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8736]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8737 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، أَوْ نَهْبُ مُؤْمِنٍ، أَوْ الْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ، أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اپنے مال کی زکوٰۃ دل کی خوشی سے اور ثواب کی نیت سے ادا کرتا ہو اور بات سن کر مانتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا کوئی کفارہ نہیں اللہ کے ساتھ شرک ناحق کسی کو قتل کرنا کسی مسلمان پر بہتان باندھنا میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور جھوٹی قسم کھانا جس سے دوسرے کا مال ناحق حاصل کرلیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8737]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المتوكل أو أبو المتوكل مجهول، وبقية مدلس وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، المتوكل أو أبو المتوكل مجهول، وبقية مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 8738 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، عِيسَى بْنِ يَزِيدَ ، جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ، خَيْرٌ لِلنَّاسِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمین میں نافذ کی جانے والی ایک سزا لوگوں کے حق میں تیس چالیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8738]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جرير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 8739 مسند احمد
هَارُونُ هُوَ ابْنُ مَعْرُوفٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ، إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے وہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر جتنی بھی نعمتیں برسائیں ہمیشہ ایک گروہ نے ان کی ناشکری ہی کی اور یہی کہتے رہے کہ یہ فلاں ستارے کی تاثیر ہے اور یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 72
الحكم: إسناده صحيح، م: 72