بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 151 از 194
حدیث نمبر: 10120 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، فَتَمَسُّهُ النَّارُ , إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے نابالغ فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
حدیث نمبر: 10121 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ، خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا" ، قَالَ يَحْيَى: إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 648، م: 649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10122 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، زِيَادٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، صُورَةُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، كَأَشَدِّ ضَوْءِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ هُمْ مَنَازِلُ بَعْدَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں تو ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں جائیں گے جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10122]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834
الحكم: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 10123 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلُ ، زِيَادٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: َحَدَّثَنَا زِيَادٌ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :" مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ دَاخِلٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ" , قِيلَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10123]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10124 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10125 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ، فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10125]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، م: 1663
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 10126 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ، وَلَكِنْ لَا يَجِدُونَ حَمُولَةً، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب کو سواری مہیا کرسکوں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں، پھر زندگی عطاہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں، پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36 م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36 م: 1876
حدیث نمبر: 10127 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي عَجْلَانُ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ , فَقَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ" ارْكَبْهَا وَيْلَك" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی نے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم پوچھا (جبکہ انسان حج کے لئے جارہاہو اور اس کے پاس کوئی دوسری سواری نہ ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10127]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10128 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امام جب وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10128]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 10129 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10129]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 10130 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بنی اسرائیل سے روایات بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10130]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10131 مسند احمد
يَحْيَى ، يَحْيَى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10131]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
حدیث نمبر: 10132 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمٌ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1511
حدیث نمبر: 10133 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:" وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78، قَالَ: تَشْهَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَار" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی ان قرآن الفجر کان مشہودا کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس وقت رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10133]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 648، م: 649، وله هنا إسنادان، الأول: منقطع فإن إبراهيم لم يسمع من ابن مسعود، والثاني: صحيح
الحكم: صحيح، خ: 648، م: 649، وله هنا إسنادان، الأول: منقطع فإن إبراهيم لم يسمع من ابن مسعود، والثاني: صحيح
حدیث نمبر: 10134 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10134]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10135 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى ، قَتَادَةُ ، بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى ، قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَشَاجَرْتُمْ أَوْ اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز پر اتفاق کرکے دور کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10135]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10136 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10136]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127
حدیث نمبر: 10137 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَحَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَجَّاجٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , الْمَعْنَى، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: إِذَا مُتُّ فَلَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا، وَلَا تَتْبَعُونِي بِنَارٍ، وَأَسْرِعُوا بِي إِلَى رَبِّي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وُضِعَ الْعَبْدُ أَوْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ، قَالَ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالَ وَيْلَكُمْ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس! مجھے کہاں لئے جاتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10137]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
حدیث نمبر: 10138 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ، أَوْ نَصْلٍ، أَوْ حَافِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جا سکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10138]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10139 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408