بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 4 از 194
حدیث نمبر: 7179 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا خَلَعَ، فَلْيَبْدَأْ بِشِمَالِهِ"، وَقَالَ" انْعَلْهُمَا جَمِيعًا، أو أَحْفِهما جَميعاً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیزیہ بھی فرمایا: کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو۔ (ایسا نہ کیا کرو کہ ایک پاؤں میں جوتی ہو اور دوسرے میں نہ ہو جیسا کہ بعض لوگ کرتے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 7180 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 7181 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَة، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أوَ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7182 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَد، إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ، إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ". ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سورة آل عمران آية 36.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366.
حدیث نمبر: 7183 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
حدیث نمبر: 7184 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرَ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصرہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918.
حدیث نمبر: 7185 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْآنَ الْفَجْرِ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7186 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالَ: قَالُوا: أَيُّمَا هو يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ، الْقَتْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب زمانہ قریب آ جائے گا لوگوں کے دلوں میں بخل اور کنجوسی انڈیل دی جائے گی۔ فتنوں کا ظہور ہو گا اور ہرج کی کثرت ہو گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قتل قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7187 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ: آمِينَ، وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7187]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 782، م: 410.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 782، م: 410.
حدیث نمبر: 7188 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
حدیث نمبر: 7189 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ إِبِلٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ؟" قَالَ: نَعَمْ، فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ، قَالَ:" وَمِمَّا ذَاكَ؟" قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیاہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7190 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ صَاحَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7191 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام۔ دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1189، م: 1397.
حدیث نمبر: 7192 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ، لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزَةِ، لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7192]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5644، م: 2809.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5644، م: 2809.
حدیث نمبر: 7193 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي، قَالَ: يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ، يَنْعِقَانِ لِغَنَمِهِمَا، فَيَجِدَاهَا وُحُوشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا، أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آ کر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے آخر میں وہاں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع ہوں گے جو اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر وحشی جانوروں کو پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیتہ الوداع نامی گھاٹی پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گرپڑیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7193]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389.
حدیث نمبر: 7194 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:" مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ، وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطاء فرمادیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں دینے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو في الصحيحين من حديث معاوية، خ: 3116، م: 1037.
الحكم: إسناده صحيح، وهو في الصحيحين من حديث معاوية، خ: 3116، م: 1037.
حدیث نمبر: 7195 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ بِجَرَّايَ، قَالَ يَزِيدُ: مِنْ أَجْلِي، الصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ، أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7195]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
حدیث نمبر: 7196 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا، كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا، لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گزرے تو اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر عمل نہ کرسکے تو فقط ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جاتا ہے۔ اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ گناہ نہیں لکھا جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130.
حدیث نمبر: 7197 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، خَالِدٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُدْرَ مَا فَعَلَتْ، وَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ، أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَا تَشْرَبُ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ؟". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ كَعْبًا، فَقَالَ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ لِي ذَلِكَ مِرَارًا، فَقُلْتُ: أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہو گئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھآ جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے _x000D_ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کو سنائی تو وہ کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے مجھ سے یہی سوال کئی مرتبہ کیا۔ بالاخر میں نے ان سے کہا کیا تم نے تورات پڑھی ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997.
حدیث نمبر: 7198 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ قَطَنٍ وَهُوَ أَبُو قَطَنٍ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ قَطَنٍ وَهُوَ أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو قَطَن: قَالَ: فِي الْكِتَابِ مَرْفُوعٌ:" إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہو گیا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7198]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 291، م: 348.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 291، م: 348.