بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 45 از 194
حدیث نمبر: 7999 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ، فَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي، فَأَنَا بَرِيءٌ مِنْهُ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2985.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2985.
حدیث نمبر: 8000 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ، مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 8001 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ أَبَا الْقَاسِمِ صَاحِبَ الْحُجْرَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ" . قَالَ شُعْبَةُ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، يَعْنِي مَنْصُورًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص سے کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8001]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8002 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8002]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8003 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ الطَّحَّانِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَشْرَبُ قَائِمًا، فَقَالَ لَهُ:" قِه"، قَالَ: لِمَهْ؟ قَالَ:" أَيَسُرُّكَ أَنْ يَشْرَبَ مَعَكَ الْهِرُّ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِنَّهُ قَدْ شَرِبَ مَعَكَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، الشَّيْطَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا اسے قے کردو اس نے پوچھا کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی بلا پانی پیئے؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ساتھ بلے سے بھی زیادہ شر والی چیز نے پانی پیا ہے اور وہ ہے شیطان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8003]
حکم دارالسلام
هذا الحديث غريب، تفرد بروايته أبو زياد، والغرابة بينة فى متنه
الحكم: هذا الحديث غريب، تفرد بروايته أبو زياد، والغرابة بينة فى متنه
حدیث نمبر: 8004 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8004]
حکم دارالسلام
هو مكررما قبله
الحكم: هو مكررما قبله
حدیث نمبر: 8005 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ" . قال عبد الله بن أحمد: وقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي قَوْلَهُ:" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کردے گا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا اگر لوگ الگ ہی رہیں تو بہتر ہے عبداللہ بن احمد۔ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے ہیں کہتے ہیں کہ میرے والد نے مرض الموت میں فرمایا اس حدیث پر نشان لگا دو کیونکہ یہ دیگر احادیث کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بات سنو اطاعت کرو اور صبر کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3604، م: 2917
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3604، م: 2917
حدیث نمبر: 8006 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سُئِلَ عَنْ قِرَاءَةِ الْإِمَامِ فِي الصَّلواتُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا، أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سرا قرأت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
الحكم: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 8007 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟"، قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟!" . قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَواتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی جہری نماز سے فارغ ہونے کے بعد پوچھا کہ کیا تم میں کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ جی یا رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8008 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ کلمات کہہ لے۔ لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہوعلی کل شیء قدیر تو یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے سونیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹادئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں پیش کرسکے گا۔ سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3293، م: 2691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3293، م: 2691
حدیث نمبر: 8009 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹادئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6405، م: 2691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6405، م: 2691
حدیث نمبر: 8010 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انسان میں سب سے بدترین چیز بےصبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8011 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: " وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو سورت اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا چیز واجب ہوگئی؟ فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8012 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي سِنَانٍ ، أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِشْرِينَ حَسَنَةً، أَوْ حَطَّ عَنْهُ عِشْرِينَ سَيِّئَةً، وَمَنْ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَمِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، كُتِبَتْ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً وَحُطَّ عَنْهُ ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چارقسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ اللہ واللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جو شخص اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العلمین کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2695
الحكم: إسناده صحيح، م: 2695
حدیث نمبر: 8013 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ . وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جارہی ہوتی ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3010
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 8014 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ:" كُلُوا"، وَلَمْ يَأْكُلْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھرکے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تناول فرمالیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرمادیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 8015 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1378
الحكم: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 8016 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَدْخُلُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فقال:" اللَّهُمَّّّ اجْعَلْه مِنهُم"، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کردی اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6542، م: 216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6542، م: 216
حدیث نمبر: 8017 مسند احمد
عبدُ الرحمن ، عبدُ الواحد يعني ابنَ زيادٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حدثنا عبدُ الرحمن ، حدثنا عبدُ الواحد يعني ابنَ زيادٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ الْأَنْمَاطِيُّ، وَكَانَ ثِقَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ مثله، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس خطبے میں توحید و رسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8017]
حکم دارالسلام
إسناداه قويان، وانظر ما قبله
الحكم: إسناداه قويان، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8018 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخُطْبَةُ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ، كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8018]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي