بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 15 از 194
حدیث نمبر: 7399 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَلِلْيَهُودِ غَدًا، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ". قَالَ أَحَدُهُمَا:" بَيْدَ أَنَّ"، وَقَالَ الْآخَرُ:" بَايْدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا: تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7399]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 876، م: 855.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7400 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَصَلُّوا أَرْبَعًا، فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ. قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: لَا أَدْرِي هَذَا الْحَدِيثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ لَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمعہ کے بعد نوافل پڑھنا چاہو تو پہلے چار رکعتیں پڑھو۔ اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس آ کر پڑھ لینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 881.
الحكم: إسناده صحيح، م: 881.
حدیث نمبر: 7401 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا عِيدًا، فَالْيَوْمَ لَنَا، وَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا: تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہمارے لئے عید بنا دیا اب یہ ہمارا دن ہے اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 876، 855.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 876، 855.
حدیث نمبر: 7402 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ، خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور ان میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7402]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7403 مسند احمد
عَبْدَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا، وَطَهُورًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جوامع الکلم دئیے گئے ہیں اور میرے لئے روئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7403]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523.
حدیث نمبر: 7404 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَسْكُتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419.
حدیث نمبر: 7405 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ، فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ?! أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ؟! إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَار، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيَتْفُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ" فَوَصَفَ الْقَاسِمُ فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ مَسْحَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم میں سے کسی کا کیا معاملہ ہے کہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے اور پھر تھوک بھی پھینکتا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے رخ کر کے کھڑا ہو جائے اور اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی شخص تھوک پھینکنا چاہے تو اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے راوی حدیث قاسم نے کپڑے میں تھوک کر اسے کپڑے سے مل کر دکھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7405]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وإسناد قوي، خ: 416، م: 550.
الحكم: حديث صحيح وإسناد قوي، خ: 416، م: 550.
حدیث نمبر: 7406 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبَا السَّائِبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ". قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَغَمَزَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْهَا فِي نَفْسِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ! اگر کبھی میں امام کے پیچھے ہوں؟ انہوں نے میرے بازو میں چٹکی بھر کر فرمایا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 395.
الحكم: إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7407 مسند احمد
جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ، وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَتَخَافُ الْفَقْرَ، وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ توفلاں (ورثاء) کا ہو چکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032.
حدیث نمبر: 7408 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1875.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1875.
حدیث نمبر: 7409 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوهَا، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ". وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے جب تم بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا: کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7409]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7410 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور اس عورت پر اللہ رحمتوں کا نزول ہو جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7410]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7411 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7411]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1513.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1513.
حدیث نمبر: 7412 مسند احمد
يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7413 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ، وَالْعَذَابِ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَتَعَوَّذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ تو رحمت اور زحمت دونوں کے ساتھ آتی ہے البتہ اللہ سے اس کی خیر مانگا کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7413]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7414 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ يَوْمًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339.
حدیث نمبر: 7415 مسند احمد
يَحْيَى ، يَحْيَى ، ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَكّ، يَعْنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394.
حدیث نمبر: 7416 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ:" ثَلَاثٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الْمُسْتَعْفِفُ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے واجب ہے (١) اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا (٢) اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنے والا (٣) وہ عبد مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنا چاہتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7416]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7417 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَنَامُ عَيْنِي، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7417]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7418 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَجُلٌ: كَمْ يَكْفِي رَأْسِي فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَة؟ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا"، قَالَ: إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ، قَالَ:" كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ غسل ت میں میرے سر کے لئے کتنا پانی کافی ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سر پر ہاتھ سے تین مرتبہ پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگا کہ میرے بال بہت گھنے ہیں؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال بھی بہت زیادہ گھنے اور عمدہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7418]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.