ابْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي أُمِرُوا بِهِ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا عِيدًا، فَالْيَوْمَ لَنَا، وَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا: تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہمارے لئے عید بنا دیا اب یہ ہمارا دن ہے اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 876، 855.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 876، 855.