بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 165 از 194
حدیث نمبر: 10400 مسند احمد
إِسْحَاقُ وَهُوَ الْأَزْرَقُ ، شَرِيكٌ ، هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبَا حَازِمٍ الْأَشْجَعِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ الْأَزْرَقُ قََالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ الْأَشْجَعِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: أُتِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تُوُفِّيَ فُلَانٌ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ:" كَيَّتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے آکر بتایا کہ فلاں آدمی فوت ہوگیا ہے اور اس نے دو دینار یا دو درہم چھوڑے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10400]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بلفظ الدينار، وهذا إسناد ضعيف، فيه شريك سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح بلفظ الدينار، وهذا إسناد ضعيف، فيه شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 10401 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ، إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا سفر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 10402 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030
حدیث نمبر: 10403 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، سَالِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ، يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، وَإِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ، أَوْ شَتَمْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ میں بھی ایک انسان ہوں جیسے دوسرے لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذا پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے قیامت کے دن اس شخص کے لئے باعث کفارہ و قربت بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10403]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6361، م: 2601
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 10404 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ: وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا وَعَدْلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ، وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ، وَلَيَتْرُكَنَّ الْقِلَاصَ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا، وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالْبَغْضَاءُ وَالتَّحَاسُدُ، وَلَيُدْعَوُنَّ إِلَى الْمَالِ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اونٹنیاں پھرتی پھریں گی لیکن کوئی ان کی طرف نہ بڑھے گا کینہ بغض اور حسد دور ہوجائے گا اور لوگوں کو مال کی طرف بلایا جائے گا لیکن اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2476، م: 155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2476، م: 155
حدیث نمبر: 10405 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ، وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا، فَلْيَبِعْهَا، وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2152، م: 1703
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2152، م: 1703
حدیث نمبر: 10406 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، عَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ" , قَالَ هَاشِمٌ:" أَعَزَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
حدیث نمبر: 10407 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قََالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ " لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، أَنَّهُ عَلَيَّ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِإِيمَانِهِ مَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، وَإِمَّا بِوَفَاةٍ، أَوْ أَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکاہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10407]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 10408 مسند احمد
جَرِيرٌ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: أَقُولُ: " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں یہ بتائیے کہ آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا فرمادے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف فرمادے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہوجاتا ہے اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے برف پانی اور اولوں سے دھو کر صاف فرمادے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
الحكم: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
حدیث نمبر: 10409 مسند احمد
جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1819، م: 1350
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1819، م: 1350
حدیث نمبر: 10410 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، الْحَسَنُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسِينَ سَنَةً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا"، قَالَ: قِيلَ لَهُ: النَّاسُ كُلُّهُمْ؟ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ مِنْهُمْ، نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہ سود کھانے لگیں گے کسی نے پوچھا کہ کیا سارے لوگ ہی سود کھانے لگیں گے؟ فرمایا جو سود نہ بھی کھائے گا اسے اس کا اثر ضرور پہنچے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10410]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عباد ضعيف، لكنه متابع
الحكم: إسناده ضعيف، عباد ضعيف، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10411 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَوْفٌ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالَيْهَا كُلُّهَا، لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنوئیں کا حریم آس پاس کے چالیس گز پر مشتمل ہوتا ہے اور سب کا سب اونٹوں بکریوں اور مسافروں اور پہلے آکر پینے والوں کے لئے ہے اور کسی کو زائد پانی استعمال کرنے سے نہ روکاجائے کہ اس کے ذریعے زائد از ضرورت گھاس روکی جاسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10411]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والرجل المبهم فى إسناده هو ابن سيرين
الحكم: إسناده صحيح، والرجل المبهم فى إسناده هو ابن سيرين
حدیث نمبر: 10412 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْعُرْسِ، يُطْعَمُهُ الْأَغْنِيَاءُ، وَيُمْنَعُهُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10412]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5177، م: 1432
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5177، م: 1432
حدیث نمبر: 10413 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ ثُمَّ تَفَرَّقُوا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ، كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ اکھٹے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں وہ ایسے ہوتے ہیں گویا کہ کسی مردار گدھے سے جدا ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10413]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 10414 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٌ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جِدَالٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10414]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10415 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: قََالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ: قَبْلَ أَنْ يَقُومَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں بیہودگی زیادہ ہوجائے تو اس مجلس سے اٹھتے وقت یوں کہہ لے سبحانک ربنا وبحمدک لاالہ الا انت استغفرک ثم اتوب الیک تو اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10416 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10416]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355 ، م: 1710
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2355 ، م: 1710
حدیث نمبر: 10417 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قََالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَتْ النَّاسُ فِي طُرُقِهِمْ أَنَّهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کا اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10417]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10418 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ , فَقَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 365، م: 515
الحكم: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515
حدیث نمبر: 10419 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10419]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4635، م: 157