بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 53 از 194
حدیث نمبر: 8159 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا، خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ: " يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أُغْنِيكَ عَمَّا تَرَى؟" قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر جبکہ وہ کپڑے اتار کر غسل فرما رہے تھے سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں پروردگار لیکن آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 279
حدیث نمبر: 8160 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُفِّفَتْ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام الْقِرَاءَةُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَابَّتِهِ فَتُسْرَجُ، وَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام پر قرأت کو ہلکا پھلکا کردیا گیا تھا چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسے جانے سے پہلے کتاب (زبور) پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3417 ، 2073
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3417 ، 2073
حدیث نمبر: 8161 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
حدیث نمبر: 8162 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُسَلِّمْ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھوٹا بڑے کو گذرنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے زیادہ افراد کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6231، م: 2160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6231، م: 2160
حدیث نمبر: 8163 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَزَالُ أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں گا جب تک وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 21
الحكم: إسناده صحيح، م: 21
حدیث نمبر: 8164 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتْ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتْ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ سَفَلَتُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ؟ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْجَنَّةِ:" إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَةٌ أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي"، وَقَالَ لِلنَّارِ:" إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي"، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِجْلَهُ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ أَيْ: حَسْبِي، فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا اور جہنم کہنے لگی کہ میرا کیا قصور ہے کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ جنت کہنے لگی کہ پروردگار میرا کیا قصور ہے کہ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا اور جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو بھر دوں گا چنانچہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور جہنم کے اندر جتنے لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے پاؤں کو اس میں رکھ دیں گے اس وقت جہنم بھر جائے گی اور اس کے اجزاء سمٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی بس۔ بس بس۔ اور جنت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4850، م: 2846
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4850، م: 2846
حدیث نمبر: 8165 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8165]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
الحكم: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 8166 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ: " إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَفْعَلْ، فَإِذَا عَمِلَهَا، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِعَشْرَةِ أَمْثَالِهَا، وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَفْعَلَ سَيِّئَةً، فَأَنَا أَغْفِرُهَا مَا لَمْ يَفْعَلْهَا، فَإِذَا عَمِلَهَا، فَأَنَا أَكْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو میں اسے ایک نیکی لکھتا ہوں پھر اگر وہ اس پر عمل کرلے تو اسے دس گنا بڑھا کر لکھ لیتاہوں اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے نہیں لکھتا اگر وہ گناہ کر گذرے تو صرف ایک ہی گناہ لکھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7501، م: 129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 129
حدیث نمبر: 8167 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَيْدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سے کسی ایک کے کوڑے کی جگہ آسمان اور زمین سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2793
الحكم: إسناده صحيح، م: 2793
حدیث نمبر: 8168 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟ وہ کہے گا جی ہاں تو حکم ہوگا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے عطاء ہوں گی اور اتنی ہی مزید عطاء ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 8169 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ يَنْدَفِعُ النَّاسُ فِي شُعْبَةٍ، أَوْ فِي وَادٍ، وَالْأَنْصَارُ فِي شُعْبَةٍ، لَانْدَفَعْتُ معَ الأْنصارِ فِي شِعْبِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3779، م: 76
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3779، م: 76
حدیث نمبر: 8170 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ، لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8170]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3399، م: 1470
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3399، م: 1470
حدیث نمبر: 8171 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ لَهُ: " اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ". قَالَ: فَذَهَبَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ: رَحْمَةَ اللَّهِ، قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمْ يَزَلْ يَنْقُصُ الْخَلْقُ بَعْدُ حَتَّى الْآنَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اپنی صورت پر فرمائی ان کا قد ساٹھ گز لمبا رکھا اور تخلیق کے بعد ان سے فرمایا اس جماعت کے پاس جو فرشتوں پر مشتمل ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی جاؤ اور انہیں سلام کرو اور وہ جو جواب دیں اسے توجہ سے سنو کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا باہمی ملاقات کے وقت افتتاحی کلام ہوگا چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام نے وہاں جا کر السلام علیکم کہا فرشتوں نے جوابا کہا السلام علیک ورحمۃ اللہ گویا انہوں نے و رحمۃ اللہ کا اضافہ کردیا اب ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ گز لمبا ہوگا دنیا میں البتہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد مخلوق کا قد مسلسل گھٹتا رہا یہاں تک کہ اس صورت حال پر آپہنچا (جو ہم دیکھ رہے ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3326، م: 2841
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3326، م: 2841
حدیث نمبر: 8172 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، قَالَ: فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا، قَالَ: فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي. قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ عَيْنَهُ، وَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي، فَقُلْ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا تَوَارَتْ بِيَدِكَ مِنْ شَعْرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً". قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ:" ثُمَّ تَمُوتُ"، قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ، قَالَ: رَبِّ أَدْنِنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ملک الموت کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا گیا اور وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا؟ اور اس نے میری آنکھ بھی پھوڑ دی اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ اگر زندگی کے خواہاں ہیں تو ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا؟ فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر بیت المقدس کے قریب کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی جانب ایک سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8172]
حکم دارالسلام
صحيح، رجاله ثقات لكن اختلف فى رفعه ووقفه، خ: 1339، م: 2372
الحكم: صحيح، رجاله ثقات لكن اختلف فى رفعه ووقفه، خ: 1339، م: 2372
حدیث نمبر: 8173 مسند احمد
وَقَالَ: وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِ مُوسَى، قَالَ: فَجَمَحَ مُوسَى يَأْمُرُهُ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ. حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى، وَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا" ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ نَدْبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً، ضَرْبُ مُوسَى بِالْحَجَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا غسل فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے واللہ انہیں ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف اس وجہ سے رکاوٹ ہوتی ہے کہ ان کے غدود پھولے ہوئے ہیں ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ پر پڑگئی اور وہ کہنے لگے کہ واللہ موسیٰ میں تو کوئی عیب نہیں ہے وہیں وہ پتھر بھی رک گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے اپنے کپڑے لے کر اسے مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ اس پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مار کی وجہ سے چھ سات نشان پڑگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 278، م: 339
الحكم: إسناده صحيح، خ: 278، م: 339
حدیث نمبر: 8174 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 8175 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الظُّلْمِ مَطْلَ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2400 ، م: 1564
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2400 ، م: 1564
حدیث نمبر: 8176 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ، رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ، لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر اور پسندیدہ نام اس شخص کا ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے حالانکہ اصل حکومت تو اللہ کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 4143
الحكم: إسناده صحيح، م: 4143
حدیث نمبر: 8177 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ، خُسِفَتْ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا حَتَّى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے ناز وتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے آپ پر بڑا عجب محسوس ہو رہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
حدیث نمبر: 8178 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675