بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 8 از 194
حدیث نمبر: 7259 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ، كَالْمُهْدِي كَبْشًا"، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَة، وَالْبَيْضَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7260 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَة، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7260]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6200، م: 675.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6200، م: 675.
حدیث نمبر: 7261 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّة: رِوَايَةً:" خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیر ناف بال صاف کرنا (٣) مونچھیں تراشنا (٤) ناخن کاٹنا (٥) بغل کے بال نوچنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5889، م: 257.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5889، م: 257.
حدیث نمبر: 7262 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَحَدِهِمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458.
حدیث نمبر: 7263 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کر لو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912.
حدیث نمبر: 7264 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ وَلَدًا أَسْوَدَ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟" قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ:" أَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ؟" قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ:" وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7314، م: 1500.
حدیث نمبر: 7265 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہو جائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632.
حدیث نمبر: 7266 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سُفْيَانُ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا، وَطَهُورًا". قَالَ سُفْيَانُ : أُرَاهُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے لئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7266]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6998، م: 523، وهذا إسناد صحيح إن كان الزهري وصله.
الحكم: حديث صحيح، خ: 6998، م: 523، وهذا إسناد صحيح إن كان الزهري وصله.
حدیث نمبر: 7267 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً:" أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ، فَإِنْ كَانَ صَالِحًا قَدَّمْتُمُوهُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ سِوَى ذَلِكَ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً، خَيْرٌ تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح مروی ہے کہ جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7267]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944.
حدیث نمبر: 7268 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرَ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کرو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7268]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3618، م: 2918.
حدیث نمبر: 7269 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، يَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2476، م: 155.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2476، م: 155.
حدیث نمبر: 7270 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنَ أُكَيْمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ ابْنَ أُكَيْمَةَ ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاةً يَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ:" هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟" قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ:" أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟!". قَالَ مَعْمَرٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُفْيَانُ: خَفِيَتْ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی ہمارا گمان یہ ہے کہ وہ فجر کی نماز تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے قرأت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قرأت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟_x000D_ امام زہری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ یہ آخری جملہ مجھ پر مخفی رہا (میں سن نہیں سکا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقوله: «فانتهى الناس....الخ» قال الحافظ ابن حجر في التلخيص: 231/1، هو من كلام الزهري.
الحكم: إسناده صحيح، وقوله: «فانتهى الناس....الخ» قال الحافظ ابن حجر في التلخيص: 231/1، هو من كلام الزهري.
حدیث نمبر: 7271 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً، قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ، شَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ". قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَوَافَقَ سُفْيَانَ مَعْمَرٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنازے کو لے جانے میں جلدی سے کام کرو کیونکہ اگر نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944.
حدیث نمبر: 7272 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7272]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1315، م: 944.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1315، م: 944.
حدیث نمبر: 7273 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقَولَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے ایسا ضرور ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1252.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1252.
حدیث نمبر: 7274 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أبا هريرة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، سمعا أبا هريرة ، يبلغ به النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5899، م: 2103.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5899، م: 2103.
حدیث نمبر: 7275 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
رقم الحديث: 7101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا، أصحب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، فَحَضَرْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا، فَقَالَ:" مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ، حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضْهُ إِلَيْهِ، فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي؟" وَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ، حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ، ثُمَّ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے میں تو ایک مسکین آدمی تھا) اور اپنے پیٹ بھرنے کے لئے گزارے کے بقد ر کھانا حاصل کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چمٹا رہتا تھا (مجھے وہاں سے اتنا کھانا مل جاتا تھا کہ پیٹ بھر جائے پھر سارا دن بارگاہ نبوت میں ہی رہتا) جب کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبرگیری میں مصروف رہتے تھے۔ میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7354، م: 2492.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7354، م: 2492.
حدیث نمبر: 7276 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا، ثُمَّ يَتْلُو هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ پھر وہ ان دو آیتوں کی تلاوت فرماتے جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 118، م: 2492.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 118، م: 2492.
حدیث نمبر: 7277 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ... فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2047، م: 2492.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2047، م: 2492.
حدیث نمبر: 7278 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقُرِئَ عَلَيْهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ، فَلَا يَمْنَعْهُ". فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُؤُوسَهُمْ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ؟! وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2463، 1609.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2463، 1609.