بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 7270
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 7270
حدیث نمبر: 7270 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنَ أُكَيْمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ ابْنَ أُكَيْمَةَ ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَاةً يَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ:" هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟" قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ:" أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟!". قَالَ مَعْمَرٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُفْيَانُ: خَفِيَتْ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی ہمارا گمان یہ ہے کہ وہ فجر کی نماز تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے قرأت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قرأت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا؟_x000D_ امام زہری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ یہ آخری جملہ مجھ پر مخفی رہا (میں سن نہیں سکا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقوله: «فانتهى الناس....الخ» قال الحافظ ابن حجر في التلخيص: 231/1، هو من كلام الزهري.
الحكم: إسناده صحيح، وقوله: «فانتهى الناس....الخ» قال الحافظ ابن حجر في التلخيص: 231/1، هو من كلام الزهري.
← پچھلی حدیث (7269) باب پر واپس اگلی حدیث (7271) →