بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 144 از 194
حدیث نمبر: 9980 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ بھی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 359، م: 516
الحكم: إسناده صحيح، خ: 359، م: 516
حدیث نمبر: 9981 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے ورثاء دینارودرہم کی تقسیم نہیں کریں گے میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنی زمین کے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2776 ، م: 1760
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2776 ، م: 1760
حدیث نمبر: 9982 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ: النِّبَاذِ وَاللِّمَاسِ، وَعَنْ لُبْسِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ شَيْء" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کی بیع یعنی بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے اور ایک چادر میں لپٹنے سے اور چادر میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے کہ انسان اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 368، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 368، م: 1511
حدیث نمبر: 9983 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَارِثِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے وہ میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
حدیث نمبر: 9984 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ عَمَّارٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ، قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ يَأْكُلُ مَعَهُ، أَوْ يُنَاوِلْهُ لُقْمَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی سردی سے کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 9985 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قِيلَ لَهُ: " أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ" ، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ:" أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْك".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اے ابن آدم خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 993
الحكم: إسناده صحيح، م: 993
حدیث نمبر: 9986 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، موسي بن أبي عثمانَ ، أبيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ موسي بن أبي عثمانَ , عن أبيه ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت " جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو " ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9986]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 9987 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبُو الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , وَمُؤَمَّلٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قََالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَة، قَالَ: ارْكَبْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ" ارْكَبْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جارہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9987]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 9988 مسند احمد
قََالَ:" وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ" ، قَالَ مُؤَمَّلٌ: الرَّاكِدِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9988]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 239، م: 282
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 9989 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقِيَ آدَمَ مُوسَى، فَقَالَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ ثُمَّ فَعَلْتَ؟! , فَقَالَ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ، وَاصْطَفَاكَ بِرِسَالَتِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ؟! , ثُمَّ أَنَا أَقْدَمُ أَمْ الذِّكْرُ؟ قَالَ: لَا , بَلْ الذِّكْرُ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو جنت میں ٹھہرایا پھر آپ نے یہ کام کیا؟ اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تم پر تورات نازل فرمائی یہ بتاؤ کہ میں پہلے تھا یا اللہ کا حکم انہوں نے کہا اللہ کا حکم اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2952
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2952
حدیث نمبر: 9990 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَحُمَيْدٌ ، الْحَسَنِ ، جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَحُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقِيَ آدَمَ مُوسَى" , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9990]
حکم دارالسلام
صحيح، وله إسنادان، الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، الحسن البصري، مدلس وقد عنعن، انظر ما قبله
الحكم: صحيح، وله إسنادان، الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، الحسن البصري، مدلس وقد عنعن، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9991 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْمَوْلُودُ؟ قَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال انجام دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659
حدیث نمبر: 9992 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ، وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ , فَلَهُ أَجْرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9993 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1378
الحكم: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 9994 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9995 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 9996 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاق ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , قََالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي إِنَائِهِ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 9997 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے بدترین شخص وہ آدمی ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526
حدیث نمبر: 9998 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الصِّيَامَ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہئے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9999 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِيحِ الْمِسْك" . يَقُول عَزَّ وَجَلَّ: " إِنَّمَا يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي، فَالصَّوْمُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، مِنْ كُلِّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہشات پر عمل کرنا میری وجہ سے چھوڑتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں اس کا بدلہ بھی خود ہی دوں گا اور روزے کے علاوہ ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151