بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 72 از 194
حدیث نمبر: 8539 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8539]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 8540 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَبَا حَصِينٍ ، ذَكْوَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَصِينٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: " لَا أَجِدُهُ"، قَالَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُومَ لَا تَفْتُرُ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرُ؟" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا کوئی عمل نہیں ملتا کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جس وقت کوئی مجاہد روانہ ہو تو تم مسجد میں داخل ہو کر قیام کرلو اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اس طرح روزہ رکھو کہ بالکل افطار نہ کرو؟ اس نے کہا کہ میرے اندر اتنی طاقت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8540]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
حدیث نمبر: 8541 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَبُو حَبِيبَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَال: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا"، أَوْ قَالَ" اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً"، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ" وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے ان دنوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرنے کی اجازت طلب کر رہے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا: کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میرے بعد فتنوں اور اختلافات کا سامنا کروگے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ہمارا کون ذمہ دار ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے امیر اور اس کے ساتھیوں کی ہمراہی کو لازم پکڑنا یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا:۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8541]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8542 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يُونُسُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ زَوْجَتَانِ مِنْ حُورِ الْعِينِ، عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ الثِّيَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی ہر ایک کے اوپر ستر جوڑے ہوں گے اور جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8542]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3254 ، م : 2834
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3254 ، م : 2834
حدیث نمبر: 8543 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کہ ایک شیطان دوسری شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8543]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8544 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيَّ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اس کے بعد سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8544]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 21
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 21
حدیث نمبر: 8545 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاخٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ يَسَارٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ: مَعَ الَّذِي قُلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8545]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف ، فیه ثلاث علل : اضطراب إسنادہ ، وجھالة بعض رواته ، و روایة بعضھم له موقوفا
الحكم: إسنادہ ضعیف ، فیه ثلاث علل : اضطراب إسنادہ ، وجھالة بعض رواته ، و روایة بعضھم له موقوفا
حدیث نمبر: 8546 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ" مَرَّتَيْنِ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَلَا تُكَلِّفُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے اس لئے تم اپنی جانوں کو ایسے عمل میں مت تکلیف دو جس کی برداشت کی تم میں طاقت نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8546]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 1966 ، م : 1103 ، وھذا إسناد فیه حیان والد سلیم مجھول
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 1966 ، م : 1103 ، وھذا إسناد فیه حیان والد سلیم مجھول
حدیث نمبر: 8547 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ زَرْعٍ وَلَا صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" ، قَالَ سُلَيْمٌ: وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ:" وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کی علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی (اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8547]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575 ، وإسنادہ ضعیف لجھالة والد سلیم
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575 ، وإسنادہ ضعیف لجھالة والد سلیم
حدیث نمبر: 8548 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، فَرْقَدٌ ، يَزِيدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَكْذَبُ، أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ، الصَّبَّاغِينَ وَالصَّوَّاغِينَ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" إِنَّ مِنْ أَكْذَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زگر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8548]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف فرقد
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف فرقد
حدیث نمبر: 8549 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8549]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 365 ، م : 515
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 365 ، م : 515
حدیث نمبر: 8550 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتًا ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَال: سَمِعْتُ ثَابِتًا ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ فِي الدُّنْيَا عِنْدَ إِفْطَارِهِ، وَفَرْحَةٌ فِي الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے ایک خوشی آخرت میں ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8550]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، الإسناد الأول حسن ، والثاني صحیح ، خ : 7492 ، م : 1151
الحكم: حدیث صحیح ، الإسناد الأول حسن ، والثاني صحیح ، خ : 7492 ، م : 1151
حدیث نمبر: 8551 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ التَّمِيمِيُّ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا: ہے کہ وہ جسم کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8551]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف عسل
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف عسل
حدیث نمبر: 8552 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خُثَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خُثَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، وَقَدْ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: بْ كهيعص 65، وَفِي الثَّانِيَةِ: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِنَفْسِي: وَيْلٌ لِفُلَانٍ، إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي، وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ، وَقَدْ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، قَالَ: فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ قبول اسلام کے لئے اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر گئے ہوئے تھے اور مدینہ منورہ پر سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز فجر پڑھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلی رکعت میں سورت مریم اور دوسری میں سورت مطففین کی تلاوت فرمائی میں نے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تو ہلاک ہوگیا کیونکہ جب وہ دوسروں سے ناپ کرل یتا ہے تو پورا پورا لیتا ہے اور جب دوسروں کو دیتا ہے تو گھٹا کردیتا ہے۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہمیں کچھ زاد راہ مرحمت فرمایا: یہاں تک کہ ہم خیبرپہنچ گئے اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کو فتح فرما چکے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں سے بات کر کے ہمیں بھی مال غنیمت کے حصے میں شریک فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8552]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8553 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَإِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ إِذَا شَاءَ أَنْ يُزَالَ زَالَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مقامی پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر پڑوسی سے تو آدمی جس وقت جدا ہونا چاہے ہوسکتا ہے (مقامی اور رہائشی پڑوسی سے نہیں ہوسکتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8553]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8554 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عزَّ وجلَََََََََِّ: فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے کی تفسیر میں فرمایا: کہ اگر میں اتناعرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8554]
حکم دارالسلام
صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8555 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو هِلَالٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ آمَنَ بِي عَشْرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8555]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، خ : 3941 ، م : 2793 ، أبو ھلال ، وإن کان فیه ضعف ، متابع
الحكم: صحیح لغیرہ ، خ : 3941 ، م : 2793 ، أبو ھلال ، وإن کان فیه ضعف ، متابع
حدیث نمبر: 8556 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ : بَيْنَمَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ، إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَئِنْ كَانَ مَا ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، لَقَدْ هَلَكْنَا، فَقَالَتْ: إِنَّمَا الْهَالِكُ مَنْ هَلَكَ فِيمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ، إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ، إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، قَالَتْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، فَهَلْ تَدْرِي لِمَ ذَلِكَ؟ إِذَا حَشْرَجَ الصَّدْرُ، وَطَمَحَ الْبَصَرُ، وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ، وَتَشَنَّجَتْ الْأَصَابِعُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللَّهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں تھا وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے جو بات ذکر کی ہے اگر وہ صحیح ہے تو ہم ہلاک ہوگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہلاک تو وہی ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہلاک ہو بات کیا ہے؟ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنی ہوئی روایت ذکر کی انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہے؟ جب دل دہلنے لگیں آنکھیں چکا چوند ہوجائیں جسم کی کھال کانپنے لگے اور انگلیوں میں تشنّج کی کیفیت پیدا ہوجائے (موت کا وقت قریب آجائے) اس وقت جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8556]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685
حدیث نمبر: 8557 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رَغِمَ أَنْفُ، ثمَََّ رَغِمَ أَنْفُ، ثمَََََََََََّ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا عِنْدَهُ الْكِبَرُ، لَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے والدین میں سے ایک یا دونوں پر اس کی موجودگی میں بڑھاپا آیا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرا سکیں (خدمت کر کے انہیں خوش نہ کرنے کی وجہ سے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8557]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685 ، 2551
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685 ، 2551
حدیث نمبر: 8558 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8558]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 239 ، م : 282
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 239 ، م : 282