عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَبَا حَصِينٍ ، ذَكْوَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَصِينٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَه، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: " لَا أَجِدُهُ"، قَالَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُومَ لَا تَفْتُرُ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرُ؟" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا کوئی عمل نہیں ملتا کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جس وقت کوئی مجاہد روانہ ہو تو تم مسجد میں داخل ہو کر قیام کرلو اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اس طرح روزہ رکھو کہ بالکل افطار نہ کرو؟ اس نے کہا کہ میرے اندر اتنی طاقت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8540]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878