بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 8556
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 8556
حدیث نمبر: 8556 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ ، شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ : بَيْنَمَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ، إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَئِنْ كَانَ مَا ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، لَقَدْ هَلَكْنَا، فَقَالَتْ: إِنَّمَا الْهَالِكُ مَنْ هَلَكَ فِيمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ، إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ، إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، قَالَتْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، فَهَلْ تَدْرِي لِمَ ذَلِكَ؟ إِذَا حَشْرَجَ الصَّدْرُ، وَطَمَحَ الْبَصَرُ، وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ، وَتَشَنَّجَتْ الْأَصَابِعُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللَّهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں تھا وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے جو بات ذکر کی ہے اگر وہ صحیح ہے تو ہم ہلاک ہوگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہلاک تو وہی ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہلاک ہو بات کیا ہے؟ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنی ہوئی روایت ذکر کی انہوں نے فرمایا: میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہے؟ جب دل دہلنے لگیں آنکھیں چکا چوند ہوجائیں جسم کی کھال کانپنے لگے اور انگلیوں میں تشنّج کی کیفیت پیدا ہوجائے (موت کا وقت قریب آجائے) اس وقت جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8556]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685
← پچھلی حدیث (8555) باب پر واپس اگلی حدیث (8557) →