بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 101 از 194
حدیث نمبر: 9120 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ بِبَيْعٍ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ ابْتَاعَ شَاةً فَوَجَدَهَا مُصَرَّاةً فَلْيَرُدَّهَا، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَلَا يَسُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض، حسد، دھوکہ بازی اور قطع رحمی نہ کیا کرو اور اے بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے تاجروں سے باہر باہر ہی مت مل لیا کرو جو شخص کوئی بکری خریدے پھر اسے پتہ چلے کہ اس کے تھن بندھے ہوئے ہیں تو وہ اسے ایک صاع کھجوروں کے ساتھ واپس لوٹا سکتا ہے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9120]
حکم دارالسلام
حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 2151، م: 1524، 1413
الحكم: حديث صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 2151، م: 1524، 1413
حدیث نمبر: 9121 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يُوشِكُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَنْ يَنْزِلَ حَكَمًا قِسْطًا، وَإِمَامًا عَدْلًا، فَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَتَكُونَ الدَّعْوَةُ وَاحِدَةً" . فَأَقْرِئُوهُ، أَوْ أَقْرِئْهُ السَّلَامَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأُحَدِّثُهُ فَيُصَدِّقُنِي، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: أَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا ام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے اور ایک ہی دعوت رہ جائے گی تم انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے سلام کہہ دینا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت اس کی تصدیق کی اور مجھے بھی اس کی وصیت کی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9121]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 2476، م: 155
الحكم: المرفوع منه صحیح، وهذا إسناد حسن، خ: 2476، م: 155
حدیث نمبر: 9122 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9122]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وھذا إسناد جید، خ: 1426
الحكم: حديث صحيح، وھذا إسناد جید، خ: 1426
حدیث نمبر: 9123 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 9124 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ تَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1405
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1405
حدیث نمبر: 9125 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ جَهَنَّمَ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا فَنَفَّسَهَا فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ، وَشِدَّةُ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار سے اجازت چاہی اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی (ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں) چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے اور شدید ترین سردی بھی جہنم کی ٹھنڈک کا اثر ہوتی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 537، 533، م: 617، 615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 537، 533، م: 617، 615
حدیث نمبر: 9126 مسند احمد
أَبُو هُرَيْرَةَ
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 537، 533، م: 617، 615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 537، 533، م: 617، 615
حدیث نمبر: 9127 مسند احمد
هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُفْرَدَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ بِصَوْمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9127]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1985، م: 1144
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1985، م: 1144
حدیث نمبر: 9128 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرَى رُعَاةُ الشَّاءِ رُءُوسَ النَّاسِ، وَأَنْ يُرَى الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ الْجُوَّعُ يَتَبَارَوْنَ فِي الْبِنَاءِ، وَأَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّهَا أَوْ رَبَّتَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علامات قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بکریوں کے چرواہے لوگوں کے حکمران بن جائیں برہنہ یا ننگے بھوکے لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں اور لونڈی اپنی مالکن کو جنم دینے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9128]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 50، م: 9، وهذا إسناد ضعيف لضعف شھر
الحكم: حديث صحيح، خ: 50، م: 9، وهذا إسناد ضعيف لضعف شھر
حدیث نمبر: 9129 مسند احمد
هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَحَدِيثُ النَّفْسِ، وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّهَا إِنْ شَاءَ، وَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اسے بیان کردے بشرطیکہ مرضی ہو اور اگر ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9129]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2263، وأخرجه البخاري بإثر الحديث: 7017
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2263، وأخرجه البخاري بإثر الحديث: 7017
حدیث نمبر: 9130 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9130]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 4635، م: 157
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 4635، م: 157
حدیث نمبر: 9131 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9131]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 3539، م: 2134
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 9132 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ أَتْبَاعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، كُفَّارُهُمْ أَتْبَاعٌ لِكُفَّارِهِمْ، وَمُسْلِمُوهُمْ أَتْبَاعٌ لِمُسْلِمِيهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9132]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3495، م: 1818، وهذا إسناد فيه انقطاع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 3495، م: 1818، وهذا إسناد فيه انقطاع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9133 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَاءِ ابْنِ آدَمَ، صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کے ہر عضو پر صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9133]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2707، م: 1009، وهذا إسناد فيه انقطاع كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 2707، م: 1009، وهذا إسناد فيه انقطاع كسابقه
حدیث نمبر: 9134 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا، فَيَنْطَلِقَ إِلَى هَذَا الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبَ مِنَ الْحَطَبِ وَيَبِيعَهُ، وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، أَوْ حَرَمُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واللہ یہ بات بہت بہتر ہے تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ کی طرف جائے لکڑیاں کاٹے انہیں بیچے اور اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہوجائے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں کے پاس جا کر سوال کرے ان کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دیں نہ دیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9134]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042،وهذا إسناد فيه انقطاع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042،وهذا إسناد فيه انقطاع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9135 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْهَجَرِيُّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْهَجَرِيُّ ، فِيمَا أَحْسَبُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا، إِذْ مَرَّ بِهَا فَارِسٌ مُتَكَبِّرٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْ ابْنِي هَذَا حَتَّى أَرَاهُ مِثْلَ هَذَا الْفَارِسِ، عَلَى مِثْلِ هَذَا الْفَرَسِ. قَالَ: فَتَرَكَ الصَّبِيُّ الثَّدْيَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الْفَارِسِ. قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَى الثَّدْيِ يَرْضَعُ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِيفَةٍ حَبَشِيَّةٍ أَوْ زِنْجِيَّةٍ تُجَرُّ، فَقَالَتْ: أُعِيذُ ابْنِي بِاللَّهِ أَنْ يَمُوتَ مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ، فَتَرَكَ الثَّدْيَ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَمِتْنِي مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: يَا بُنَيَّ , سَأَلْتُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَكَ مِثْلَ ذَلِكَ الْفَارِسِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَسَأَلْتُ رَبَّكَ أَلَّا يُمِيتَكَ مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ، فَسَأَلْتَ رَبَّكَ أَنْ يُمِيتَكَ مِيتَتَهَا!. قَالَ: فَقَالَ الصَّبِيُّ: إِنَّكِ دَعَوْتِ رَبَّكِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِثْلَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الْحَبَشِيَّةَ أَوْ الزِّنْجِيَّةَ كَانَ أَهْلُهَا يَسُبُّونَهَا وَيَضْرِبُونَهَا وَيَظْلِمُونَهَا، فَتَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ، حَسْبِيَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلارہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کرکے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جارہے تھے) عورت نے کہا میں اپنے بچے کو اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں کہ وہ اس حبشی عورت کی طرح مرے بچہ نے فورا دودھ پیناچھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تو نے یہ کیوں خواہش کی؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی) اور اس باندی کو لوگ گالیاں دے رہے ہیں اس پر ظلم و ستم کررہے ہیں اور وہ یہی کہے جارہی ہے " مجھے اللہ کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9135]
حکم دارالسلام
إسناده منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة، وقد صح بسياقة أخرى، خ: 3436، م: 2550
الحكم: إسناده منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة، وقد صح بسياقة أخرى، خ: 3436، م: 2550
حدیث نمبر: 9136 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَامَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا، فَنَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9136]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6669، م: 1155، وهذا سند قوي متصل من جهة ابن سیرین، ومنقطع من جهة خلاس، وأما رواية الحسن فمرسلة
الحكم: حديث صحيح، خ: 6669، م: 1155، وهذا سند قوي متصل من جهة ابن سیرین، ومنقطع من جهة خلاس، وأما رواية الحسن فمرسلة
حدیث نمبر: 9137 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9137]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6181، م: 2246، إسناده قوي متصل من جهة ابن سیرین ، منقطع من جهة خلاس، فهو لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 6181، م: 2246، إسناده قوي متصل من جهة ابن سیرین ، منقطع من جهة خلاس، فهو لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9138 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" . قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: " عَبْدِي تَرَكَ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا میرا بندہ میری رضاحاصل کرنے کے لئے اپنی خواہشات اور کھانا پینا ترک کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9138]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 7492، م: 1151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9139 مسند احمد
هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَأَرَادَ الطُّهُورَ، فَلَا يَضَعَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9139]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 162، م: 278
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 162، م: 278