هَوْذَةُ ، عَوْفٌ ، خِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا، فَيَنْطَلِقَ إِلَى هَذَا الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبَ مِنَ الْحَطَبِ وَيَبِيعَهُ، وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، أَوْ حَرَمُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واللہ یہ بات بہت بہتر ہے تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ کی طرف جائے لکڑیاں کاٹے انہیں بیچے اور اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہوجائے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں کے پاس جا کر سوال کرے ان کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دیں نہ دیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9134]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042،وهذا إسناد فيه انقطاع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 1470، م: 1042،وهذا إسناد فيه انقطاع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة