بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 77 از 194
حدیث نمبر: 8640 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الصَّلْتِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَنَظَرْتُ فَوْقَ، قَالَ عَفَّانُ: فَوْقِي، فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ"، قَالَ:" فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟" قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا،" فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي، فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟" قَالَ: هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحُومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوْا الْعَجَائِبَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شب معراج کے موقع پر جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میری نگاہ اوپر کو اٹھ گئی وہاں بادل کی گرج چمک اور کڑک تھی پھر میں ایسی قوم کے پاس پہنچا جن کے پیٹ کمروں کی طرح تھے جن میں سانپ وغیرہ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آرہے تھے میں نے پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا پر واپس آیا تو میری نگاہیں نیچے پڑگئیں وہاں چیخ و پکار، دھواں اور آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں تاکہ وہ آسمان اور زمین کی شہنشاہی میں غور و فکر نہ کرسکیں اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگوں کو بڑے عجائبات نظر آتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8640]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة الصلت
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة الصلت
حدیث نمبر: 8641 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ يَعْنِي: هِشَامٌ، وَعَمْرٌو" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8641]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8642 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عاص بن وائل کے دونوں بیٹے (ہشام اور عمرو) مومن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8642]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8643 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں فقر و فاقہ، قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8643]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8644 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قال: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرُّ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّر، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8644]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 440
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 440
حدیث نمبر: 8645 مسند احمد
حَسَنُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8645]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8646 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ أُعْطِيَ أَبُو مُوسَى مَزَامِيرَ دَاوُدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوموسیٰ اشعری کو حضرت داؤدعلیہ السلام جیسا سُر عطاء کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8646]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8647 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ صِنْفٌ مُشَاةٌ، وَصِنْفٌ رُكْبَانٌ، وَصِنْفٌ عَلَى وُجُوهِهِمْ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ وقَال عفانَ: يمشون قال:" إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ تین اصناف کی صورت میں جمع ہوں گے ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہوگی ایک قسم سواروں کی ہوگی اور ایک قسم چہروں کے بل چلنے والوں کی ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! لوگ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ فرمایا: جو ذات انہیں پاؤں پر چلاتی ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قاد رہے اس لئے انہیں ہر پھسلن اور کانٹے سے اپنے چہروں کو بچانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8647]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي ، ولجھالة أوس
الحكم: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي ، ولجھالة أوس
حدیث نمبر: 8648 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَر، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ، فَلَمَّا خَلَقَ النَّارَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ جا کر اسے دیکھ آؤ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت اور اس میں مہیا کی گئی نعمتوں کو دیکھا اور واپس آکر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ آپ کی عزت کی قسم اس کے متعلق جو بھی سنے گا اس میں داخل ہونا چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے ناپسندیدہ اور ناگوار چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اللہ نے فرمایا: اب جا کر اسے اور اس کی نعمتوں کو دیکھ کر آؤ چنانچہ وہ دوبارہ گئے اس مرتبہ وہ ناگوار امور سے ڈھانپ دی گئی تھی وہ واپس آکر عرض رسا ہوئے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اسی طرح جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: کہ اے جبرائیل جا کر جہنم اور اہل جہنم کے لئے تیار کردہ سزائیں دیکھ کر آؤ جب وہ وہاں پہنچے اور دیکھ کر واپس آکر کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم کوئی شخص بھی جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہونا نہیں چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے تو اندیشہ ہے کہ اب کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8648]
حکم دارالسلام
إسنادہ حسن
الحكم: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8649 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: " اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت یہ دعاء کرتے تھے کہ اے اللہ ہم نے آپ کے نام کے ساتھ صبح کی آپ کے نام کے ساتھ ہی شام کریں گے آپ کے نام ہی سے ہم زندگی اور موت پاتے ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ آنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8649]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8650 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَصَالِحِ بْنِ ذَكْوَانَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَحُمَيْدٍ ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَصَالِحِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ مِنَ النَّاسِ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ارشادباری تعالیٰ ہے بندہ اگر مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8650]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 7405 ، م : 2675 ، وله إسنادان ھنا : الأول حسن ، والثاني منقطع ، لأن الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 7405 ، م : 2675 ، وله إسنادان ھنا : الأول حسن ، والثاني منقطع ، لأن الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8651 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو سِنَانٍ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ، أَوْ زَارَهُ قَالَ حَسَنٌ: فِي اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: طِبْتَ، وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأْتَ مَنْزِلًا فِي الْجَنَّةِ" ، قَالَ عَفَّانُ:" مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا"، قَالَ حَسَنٌ:" فِي اللَّهِ"، وَلَمْ يَقُلْهُ عَفَّانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا تیرا چلنا بہت اچھا ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8651]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف أبي سنان
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8652 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَبِسْتُمْ، وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ، فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ" ، وَقَالَ أَحْمَدُ:" بِمَيَامِنِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لباس پہنا کرو یا وضو کیا کرو تو دائیں جانب سے ابتداء کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8652]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8653 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ طَعَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ، وَالْمَاءُ، وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَكُمْ هَذِهِ، وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ، وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّمَارَ، يَعْنِي بُرْدَ الْأَعْرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارا کھانا صرف دو کالی چیزیں کھجور اور پانی ہوتے تھے واللہ ہم نے تمہارے یہ گیہوں کبھی دیکھے تھے اور نہ ہمیں اس کا پتہ تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارا لباس دیہاتیوں کی چادریں ہوا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8653]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8654 مسند احمد
أَبُو الْمُنْذِرِ ، كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، زَعَمَ أَبُو صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8654]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لجھالة أبي صالح
الحكم: إسنادہ ضعیف لجھالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8655 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8655]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 6155 ، م : 2257 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف شریك ، وقد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 6155 ، م : 2257 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف شریك ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8656 مسند احمد
حَسَنٌ ، سُكَيْنٌ ، حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ! قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ " اشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ، فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بنو عبدالقیس کے وفد کا عینی شاہد ہوں وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حنتم دباء مزفت اور نقیر نامی برتنوں میں مشروبات پینے سے منع فرمایا: اس پر ان میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! لوگوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہیں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ آپ کو لوگوں پر افسوس ہو رہا ہے پھر فرمایا: اگر یہ برتن صاف ہوں تو ان میں پی لیا کرو اور اگر گندے ہوں تو چھوڑ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8656]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف شھر و لجھالة حفص
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف شھر و لجھالة حفص
حدیث نمبر: 8657 مسند احمد
الأسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثُمَامَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، حَمَّادٌ ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الأسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ دَوَاءً" ، قَالَ حَمَّادٌ : وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (اسے استمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8657]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 5782 ، له إسنادان : الأول منقطع ، فإن ثمامة لم یسمع من أبي ھریرۃ ، والثاني صحیح
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 5782 ، له إسنادان : الأول منقطع ، فإن ثمامة لم یسمع من أبي ھریرۃ ، والثاني صحیح
حدیث نمبر: 8658 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَرَى أَنْ تَبْلُغَ حَيْثُ بَلَغَتْ، يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے اور اسے اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ بات اس حد تک پہنچ سکتی ہے لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8658]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 6478 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 6478 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8659 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه صلى الََََََََََّلهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَِ: " مَنْ قَتَلَ الْوَزَغَ فِي الضَّرْبَةِ الْأُولَى، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِن حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا" ، قَالَ سُهَيْلٌ: الْأُولَى أَكْثَر.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پہلی ضرب میں ہی چھپکلی کو مار ڈالے اسے اتنی نیکیاں ملیں گی جو دوسری ضرب میں مارے اسے اتنی نیکیاں ملیں گی اور جو تیسری ضرب میں مارے اسے اتنی نیکیاں ملیں گی سہیل کہتے ہیں کہ ہر پہلی مرتبہ نیکیوں کی تعداد زیادہ ہوگی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8659]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2240
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2240