بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 93 از 194
حدیث نمبر: 8960 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اے ساتوں آسمانوں زمین اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے! میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتاہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقر و فاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2713
الحكم: إسناده صحيح، م: 2713
حدیث نمبر: 8961 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَصَدَّقُ بِالتَّمْرَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ، فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا، فَيَلِيهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ مَا يَبْرَحُ فَيُرَبِّيهَا كَأَحْسَنِ مَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ، أَوْ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1410، م:1014
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1410، م:1014
حدیث نمبر: 8962 مسند احمد
عَفَّانَ ، خَالِدٍ
وحَدَّثَنَا أَيْضًا يَعْنِي عَفَّانَ ، عَنْ خَالِدٍ أَظُنُّهُ الْوَاسِطِيَّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَيَقْبَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَمِينِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8963 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةٍ، الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا، إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ، قَالَ: فَآمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ: وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً فَتَبِعَهَا الرَّاعِي، فَقَالَ الذِّئْبُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ قَالَ: فَآمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کر لئے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارنے لگا وہ بیل قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا ہمیں اس مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں تو ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے لوگ کہنے لگے سبحان اللہ! کبھی بیل بھی بولتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیے نے ریوڑ پر حملہ کردیا اور ایک بکری اچک کرلے گیا وہ آدمی بھیڑئیے کے پیچھے بھاگا (اور کچھ دور جا کر اسے جا لیا اور اپنی بکری کو چھڑا لیا) یہ دیکھ کر وہ بھیڑیا قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا کہ اے فلاں! آج تو تو نے مجھ سے اس بکری کو چھڑا لیا اس دن اسے کون چھڑائے گا جب میرے علاوہ اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا؟ لوگ کہنے لگے سبحان اللہ کیا بھیڑیا بھی بولتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2324، م: 2388
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2324، م: 2388
حدیث نمبر: 8964 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ، وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 8965 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" ، فَقَالَ قَيْسٌ الْأَشْجَعِيُّ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَكَيْفَ إِذَا جَاءَ مِهْرَاسُكُمْ؟ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ يَا قَيْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں ڈالنے سے پہلے اسے تین مرتبہ دھو لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8965]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 162، م: 278
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 8966 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَلَكِنْ امْشُوا مَشْيًا عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سَبَقَكُمْ فَاقْضُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان ہوجائے تو دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون سے آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8966]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 908، م: 602، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، ولم يروه أحد متصلا من جهة الحسن البصري
الحكم: حديث صحيح، خ: 908، م: 602، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، ولم يروه أحد متصلا من جهة الحسن البصري
حدیث نمبر: 8967 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 8968 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ؟" فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوگئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلتارہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پا کر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آکر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 283، م: 371
الحكم: إسناده صحيح، خ: 283، م: 371
حدیث نمبر: 8969 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ" نَهَى عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2283
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 8970 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8970]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والأعمش قد توبع
الحكم: إسناده صحيح، والأعمش قد توبع
حدیث نمبر: 8971 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8971]
حکم دارالسلام
صحيح، خ، 2355، م: 1710، أبو جعفر الرازي وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: صحيح، خ، 2355، م: 1710، أبو جعفر الرازي وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 8972 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا، يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، وَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ، قَعَدُوا مَعَهُمْ، فَحَضَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ، حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا أَوْ صَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ أَعْلَمُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ، يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ، قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا، أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ قَدْ رَأَوْا جَنَّتِي؟! قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ، قَالَ: مِمَّا يَسْتَجِيرُونِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا، قَالُوا: وَيَسْتَغْفِرُونَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، وَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا، وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا، قَالَ: فَيَقُولُونَ: رَبِّ، فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ، إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آؤ چنانچہ وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ (پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم کیا کرتے ہوئے چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ آپ کی تعریف و تمجید بیان کر رہے تھے اور آپ کا ذکر کر رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ مجھے وہ دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی تحمید اور تمجید اور ذکر میں مشغول رہتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز کو طلب کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جنت طلب کر رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو وہ اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی حرص اور طلب کرتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ جہنم سے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ اس سے دور بھاگتے اور خوف کھاتے اللہ فرماتا ہے کہ تم گواہ رہو میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
حدیث نمبر: 8973 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنِ الْحَسَنِ وَغَيْرِهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رَأَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ: يَا فُلَانُ، أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا سَرَقْتُ، قَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا کہ چوری کرتے ہو؟ اس نے جھٹ کہا ہرگز نہیں اللہ کی قسم میں نے چوری نہیں کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں (جس کی تو نے قسم کھائی) اور اپنی آنکھوں کو خطاء کار قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8973]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 3444، م: 2368، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، وغير الحسن مبهم
الحكم: صحيح، خ: 3444، م: 2368، وهذا إسناد ضعيف، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، وغير الحسن مبهم
حدیث نمبر: 8974 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، إِسْرَائِيلَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَهْبِطُ فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ؟" ، وقَالَ عَفَّانُ : وَكَانَ أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بِأَحَادِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، ثُمَّ بَلَغَنِي بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ إِسْرَائِيلَ وَأَحْسَبُ هَذَا الْحَدِيثَ فِيهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8974]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758
حدیث نمبر: 8975 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، تَقُولُ: يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ، يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ، يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، قَالَ: فَيُجِيبُهَا: أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا اللہ اسے جواب دے گا کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں اسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اسے کاٹوں گا جو تجھے کاٹے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8975]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبدالجبار
الحكم: حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبدالجبار
حدیث نمبر: 8976 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ جَالِسًا فِي الشَّمْسِ، فَقَلَصَتْ عَنْهُ، فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا ہوا ہو اور وہاں سے دھوپ ہٹ جائے تو اس شخص کو بھی اپنی جگہ بدل لینی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8976]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، فإن محمدا لم يسمعه من أبي هريرة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، فإن محمدا لم يسمعه من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8977 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِكَنْزِهِ، فَيُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَبِينُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِإِبِلِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا، رُدَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا، إِلَّا جِيءَ بِهِ وَبِغَنَمِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْخَيْلُ؟ قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، الَّذِي يَتَّخِذُهَا وَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ، وَلو اسْتَنَّتْ مِنْهُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ، كَانَ لَهُ فِي كُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَهُ نَهْرٌ فَسَقَاهَا مِنْهُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْهُ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا تَعَفُّفًا وَتَجَمُّلًا وَتَكَرُّمًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّهَا فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ، فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا، وَرِئَاءَ النَّاسِ، وَبَذَخًا عَلَيْهِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْحُمُرُ؟ قَالَ:" مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ: فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 7 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص خزانوں کا مالک ہو اور اس کا حق ادانہ کرے اس کے سارے خزانوں کو ایک تختے کی صورت میں ڈھال کر جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اس کے بعد اس سے اس شخص کی پیشانی پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو اونٹوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا چنانچہ وہ اسے کھروں سے روند ڈالیں گے جوں ہی آخری اونٹ گذرے گا پہلے والا دوبارہ آجائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ اسی طرح وہ آدمی جو بکریوں کا مالک ہو لیکن ان کا حق زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سب قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند حالت میں آئیں گے اور ان کے لئے سطح زمین کو نرم کردیا جائے گا پھر وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان میں سے کوئی بکری مڑے ہوئے سینگوں والی یا بےسینگ نہ ہوگی جوں ہی آخری بکری اسے روندتے ہوئے گذرے گی پہلے والی دوبارہ آجائے گی تاآنکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے یہ وہ دن ہوگا جس کی مقدار تمہاری شمار کے مطابق پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف اس کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے گھوڑوں کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی ستر و جمال ہوتا ہے اور بعض اوقات باعث عقاب ہوتا ہے جس آدمی کے لئے گھوڑا باعث ثواب ہوتا ہے وہ تو وہ آدمی ہے جو اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پالتا اور تیار کرتا رہتا ہے ایسے گھوڑے کے پیٹ میں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ سب اس کے لئے باعث ثواب ہوتا ہے اگر وہ کسی نہر کے پاس سے گذرتے ہوئے پانی پی لے تو اس کے پیٹ میں جانے والا پانی بھی باعث اجر ہے اور اگر وہ کہیں سے گذرتے ہوئے کچھ کھالے تو وہ بھی اس شخص کے لئے باعث اجر ہے اور اگر وہ کسی گھاٹی پر چڑھے تو اس کی ہر ٹاپ اور ہر قدم کے بدلے اسے اجر عطاء ہوگا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کا بھی ذکر فرمایا۔ اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث ستر و جمال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو اسے زیب وزینت حاصل کرنے کے لئے رکھے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ کے حقوق اس کی آسانی اور مشکل کو فراموش نہ کرے اور وہ گھوڑا جو انسان کے لئے باعث وبال ہوتا ہے تو یہ اس آدمی کے لئے ہے جو غرور وتکبر اور نمود و نمائش کے لئے گھوڑے پالے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8977]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1402، 2371، م: 987
حدیث نمبر: 8978 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْكَلَامِ كُلِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8979 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبُو عُمَرَ الْغُدَانِيُّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَ أَبُو عُمَرَ الْغُدَانِيُّ ، قَالَ: عَفَّانُ: بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8979]
حکم دارالسلام
الحديث صحيح، وهذا الإسناد ضعيف، أبو عمر مجهول، وانظر ما قبله
الحكم: الحديث صحيح، وهذا الإسناد ضعيف، أبو عمر مجهول، وانظر ما قبله