بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 188 از 194
حدیث نمبر: 10860 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلو جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912
حدیث نمبر: 10861 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ , صِغَارَ الْعُيُونِ , حُمْرَ الْوُجُوهِ , ذُلْفَ الْأُنُوفِ , كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو ان کے چہرے سرخ ناکیں چپٹی ہوئی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10861]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912
حدیث نمبر: 10862 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ فِيكُمْ الْمَالُ , وَحَتَّى يُهِمَّ الرَّجُلَ بِمَالِهِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ , حِينَ يَتَصَدَّقُ بِهِ , فَيَقُولُ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں مال و دولت کی ریل پیل نہ ہوجائے اور انسان کسی ایسے شخص کی تلاش میں فکرمند نہ ہو جو اس کا مال قبول کرسکے جس پر وہ صدقہ کرسکے کہ وہ آدمی آگے سے جواب دے گا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1412
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1412
حدیث نمبر: 10863 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ , وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ , وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ , وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ" , قَالَ: الْهَرْجُ أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم اٹھ نہ جائے اس وقت زمانہ قریب آجائے گا زلزلے کثرت سے آئیں گے فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عنم نے پوچھا یارسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10864 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ , تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ , وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے عظیم لشکروں میں جنگ نہ ہوجائے ان دونوں کے درمیان خوب خونریزی ہوگی اور دونوں کا دعوی ایک ہی ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6935، م: 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6935، م: 157
حدیث نمبر: 10865 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْبَعِثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ , كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس کے قریب دجال وکذاب لوگ نہ آجائیں جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7121، م: 157، 7342
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7121، م: 157، 7342
حدیث نمبر: 10866 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، مَا بِهِ حُبُّ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک (ایسانہ ہوجائے گا) ایک آدمی دوسرے کی قبر پر سے گذرے گا اور کہے گا کہ اے کاش میں تیری جگہ ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7115، م: 157، 7301
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7115، م: 157، 7301
حدیث نمبر: 10867 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ , لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ , فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرمادے مجھ پر رحم فرمادے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی نہیں کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 10868 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
الحكم: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 10869 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ , إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ , فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي بَطْنِهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے نازوتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5789، م:2088
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5789، م:2088
حدیث نمبر: 10870 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ذَكْوَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُكْلَمُ عَبْدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ , يَجِيءُ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ , وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10870]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 10871 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، أَبِي الرَّبِيعِ الْمَدَنِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الْمَدَنِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لَا يَدَعُهَا النَّاسُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ: النِّيَاحَةُ , وَالتَّعَايُرُ فِي الْأَحْسَابِ , وَقَوْلُهُمْ: سُقِينَا بِنَوْءِ كَذَا، وَالْعَدْوَى: جَرِبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِئَةً , فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔ حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا، ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا، تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10871]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10872 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، سَالِمٍ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَالِمٍ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ , يَقُولُ: إِنِّي لَشَاهِدٌ يَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي , وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرات حسنین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10872]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10873 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قََالَ: " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، عَتَقَ مِنْ مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کردے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10873]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2492، م: 1503
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2492، م: 1503
حدیث نمبر: 10874 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10874]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 710
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 710
حدیث نمبر: 10875 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ , عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ , قََالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً يَحْمِلُ مِنْ عُلُوِّهَا , وَحَثَا فِي قَبْرِهَا , وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ , آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ , كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ شریک ہو اسے کندھا دے قبر میں مٹی ڈالے اور دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10875]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر: خ: 1325، م: 945
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر: خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10876 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ , خَرَجَ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ , فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ , فَإِذَا أُخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 389
الحكم: إسناده صحيح، م: 389
حدیث نمبر: 10877 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , صَلَاةُ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ , وَصَلَاةُ الْفَجْرِ , وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا , لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا , وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ إِذَا وَجَدَ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ , أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ , لَأَتَيْتُمُوهَا أَجْمَعِينَ , لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ , ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ , ثُمَّ آخُذَ حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ , فَآتِيَ الَّذِينَ تَخَلَّفُوا عَنِ الصَّلَاةِ , فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ" , وَحَدَّثَنَاه أَبُو مُعَاوِيَةَ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , وَهَذَا أَتَمُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نمازیں منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اور اگر انہیں ان دونوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر ہی آنا پڑے میرا دل چاہتا ہے مؤذن کو اذان کا حکم دوں اور ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے، پھر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے جاؤں جن کے ہمراہ لکڑی کے گٹھے ہوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 657، م:651
الحكم: إسناده صحيح، خ: 657، م:651
حدیث نمبر: 10878 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، خَلِيفَةُ يَعْنِي بْنَ غَالِبٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ يَعْنِي بْنَ غَالِبٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ , وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ: تُعِينُ ضَائِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ , فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ , فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اس نے پوچھا کہ اگر میں اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہوں تو؟ فرمایا پھر اپنے آپ کو شر اور گناہ کے کاموں سے بچا کر رکھو کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10878]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 26، م: 83
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 26، م: 83
حدیث نمبر: 10879 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ , قََالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّمَوَاتِ فِي الْعِشَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عشاء کی نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا گیا تھا جو لفظ والسماء سے شروع ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10879]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف أبى المهزم
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف أبى المهزم