بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 16 از 194
حدیث نمبر: 7419 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا"، قَالَ رَجُلٌ: عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ:" أَنْتَ أَبْصَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ و خیرات کیا کرو ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر میرے پاس صرف ایک دینار ہو تو؟ فرمایا: اسے اپنی ذات پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا: اپنی بیوی پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا: اسے اپنے بچے پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا: اسے اپنے خادم پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا: تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7419]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7420 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَتَجَنَّبْ الْوَجْهَ، وَلَا يَقُلْ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے اور یہ نہ کہے کہ اللہ تمہارا اور تم سے مشابہت رکھنے والے کا چہرہ ذلیل کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7420]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 2559، م: 2612.
الحكم: إسناده قوي، خ: 2559، م: 2612.
حدیث نمبر: 7421 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" الَّذِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ فرمایا: وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7421]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7422 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا مَعَ عَبْدِي حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ، وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، فَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً". وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ:" أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ارشادباری تعالیٰ ہے بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔ ابن نمیر کی حدیث میں آغاز اس طرح ہے کہ میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675.
حدیث نمبر: 7423 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ"، قَالَ: قُلْنَا: مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ، وَبَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، بَلْ مَضَتْ مِنْهُ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ، وَبَقِيَ سَبْعٌ، اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ". قَالَ يَعْلَى فِي حَدِيثِهِ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مہینے کے کتنے دن گزرگئے؟ ہم نے عرض کیا کہ بائیس دن گزر گئے اور آٹھ دن رہ گئے فرمایا: نہیں بائیس دن گزر گئے اور سات دن رہ گئے شب قدر کو آج کی رات میں تلاش کرو (کیونکہ مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7424 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، هُوَ شَكَّ يعنى الأعمش قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ، فَيَجِيئُونَ، فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَيَّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، وَيَذْكُرُونَكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا، وَتَمْجِيدًا، وَذِكْرًا، فَيَقُولُ: فَأَيَّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا، وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا، قَالَ: فَيَقُولُ: وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ؟ فَيَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: وَهَلْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا هَرَبًا، وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا، قَالَ: فَيَقُولُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: فَإِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ، لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ، فَيَقُولُ: هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دے کر کہتے ہیں کہ اپنے مقصود کی طرف آؤ چنانچہ وہ سب اکھٹے ہو کر آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ (پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم کیا کرتے ہوئے چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم انہیں اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ آپ کی تعریف وتحمید بیان کررہے تھے اور آپ کا ذکر کررہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ آپ کی تحمید اور تمجید اور ذکر میں مشغول رہتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز کو طلب کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جنت طلب کر رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو وہ اور زیادہ شدت کے ساتھ اس کی حرص اور طلب کرتے اللہ پوچھتا ہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ جہنم سے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں اللہ پوچھتا ہے کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو اور زیادہ شدت کے ساتھ اس سے دور بھاگتے اور خوف کھاتے اللہ فرماتا ہے کہ تم گواہ رہو میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
حدیث نمبر: 7425 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7426 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْر" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7426]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689.
حدیث نمبر: 7427 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ، مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا جو شخص کسی تنگدست کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرے اور آپس میں اس کا ذکر کرے اس پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے رحمت الہٰی ان پر چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے اور جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7427]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2699.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2699.
حدیث نمبر: 7428 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْعَبْدُ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ". قَالَ: فَحَدَّثْتُهُمَا كَعْبًا، قَالَ كَعْبٌ: لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار کو سنائی تو کعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اس کا اور دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666.
حدیث نمبر: 7429 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ، مَا تَرَكَ غِنًى". تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَطْعِمْنِي، وَإِلَّا فطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ خَادِمُكَ: أَطْعِمْنِي، وَإِلَّا فَبِعْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا شَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ، أَمْ هَذَا مِنْ كِيسِكَ؟ قَالَ: بَلْ هَذَا مِنْ كِيسِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤور نہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ! یہ آخری جملے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائے ہیں یا یہ آپ کی تھیلی میں سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! بلکہ یہ میری تھیلی میں سے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5355.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5355.
حدیث نمبر: 7430 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَنْ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، كَانَ فِي صَلَاةٍ، مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِهِمْ، مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی جو نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے وہ گھر میں یا بازار میں پڑھی جانے والی انفرادی نماز سے بیس درجوں سے کچھ او پر فضیلت رکھتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرتا ہے اور خوب اچھی طرح کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے جہاں اس کا مقصد سوائے نماز کے کوئی اور نہیں ہوتا اور نماز ہی اسے اٹھا کر لاتی ہے تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس کے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی طرح وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ _x000D_ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس پر خصوصی توجہ فرما بشرطیکہ وہ کسی کو تکلیف نہ پہنچائے یا بےوضو نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
حدیث نمبر: 7431 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَفْصٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَقَالَ عَثْرَةً، أَقَالَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی لغزش کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے معاف فرما دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7432 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ". قَالَ أَبُو مُعَاوِيَة يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ:" رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل اور رقیق القلب ہیں ایمان اور حکمت اہل یمن میں بہت عمدہ ہے جبکہ ابومعاویہ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52.
حدیث نمبر: 7433 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ، كَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَأْكُلُهَا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ، أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 68 - 69".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے کسی کالے سر والی قوم کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا بلکہ آسمان سے ایک آگ اترتی تھی اور وہ اس سارے مال غنیمت کو کھا جاتی تھی جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو لوگ مال غنیمت کے حصول میں جلدی دکھانے لگے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کر رکھا ہوتا تو تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب چھوتا اب جو تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے اسے حلال و طیب سمجھ کر کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747.
حدیث نمبر: 7434 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَطَاعَنِي، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ، وَقَالَ وَكِيعٌ: الْإِمَامَ، فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ، فَقَدْ عَصَانِي"، وَقَالَ وَكِيعٌ:" الْإِمَامَ، فَقَدْ عَصَانِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی در حقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
حدیث نمبر: 7435 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي، عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ، لَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ، وَلَا يَبْزُقُونَ، أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ، أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ، سِتِّينَ ذِرَاعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا۔ ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.
حدیث نمبر: 7436 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ، فَتُقْطَعُ يَدُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چوری کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو وہ ایک انڈہ چوری کرتا ہے (اور بعد میں عادی مجرم بننے کی وجہ سے) اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور ایک رسی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6783، م: 1687.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6783، م: 1687.
حدیث نمبر: 7437 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَاصَل رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُمْ، وَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي، فَيُطْعِمُنِي، وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں کو پتہ چلا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے لوگوں کو منع کرتے ہوئے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7437]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103.
حدیث نمبر: 7438 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7438]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.