أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ، كَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَأْكُلُهَا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ، أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلالا طَيِّبًا سورة الأنفال آية 68 - 69".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے کسی کالے سر والی قوم کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا بلکہ آسمان سے ایک آگ اترتی تھی اور وہ اس سارے مال غنیمت کو کھا جاتی تھی جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو لوگ مال غنیمت کے حصول میں جلدی دکھانے لگے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کر رکھا ہوتا تو تم نے جو مال غنیمت حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب چھوتا اب جو تم نے مال غنیمت حاصل کیا ہے اسے حلال و طیب سمجھ کر کھالو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747.