أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ، مَا تَرَكَ غِنًى". تَقُولُ امْرَأَتُكَ: أَطْعِمْنِي، وَإِلَّا فطَلِّقْنِي، وَيَقُولُ خَادِمُكَ: أَطْعِمْنِي، وَإِلَّا فَبِعْنِي، وَيَقُولُ وَلَدُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا شَيْءٌ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ، أَمْ هَذَا مِنْ كِيسِكَ؟ قَالَ: بَلْ هَذَا مِنْ كِيسِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤور نہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا اے ابوہریرہ! یہ آخری جملے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائے ہیں یا یہ آپ کی تھیلی میں سے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! بلکہ یہ میری تھیلی میں سے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5355.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5355.