بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 87 از 194
حدیث نمبر: 8840 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ قَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا؟ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي، يَقُولُ: " تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا وہ وضو فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ بغل تک دھو رہے تھے میں نے پوچھا ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے بنی فروخ تم یہاں اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں اس طرح کبھی وضو نہ کرتا (بہرحال اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو سنو کہ) میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کے اعضاء کی چمک وہاں تک پہنچتی ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8840]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 250
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 250
حدیث نمبر: 8841 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي بْنَ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟ فَقَال: نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے انہوں نے مال تو چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی کیا میرا ان کی طرف سے صدقہ کرنا صحیح ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں صحیح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1630
الحكم: إسناده صحيح، م: 1630
حدیث نمبر: 8842 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ؟" قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُقْضَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی ورپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8842]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2581
الحكم: إسناده صحيح، م: 2581
حدیث نمبر: 8843 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَاللِّسَانُ يَزْنِي، وَالْيَدَانِ تزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تزْنِيَانِ، يُحَقِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657
حدیث نمبر: 8844 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ایک تو صدقہ جاریہ دوسرا نفع بخش علم تیسرا نیک اولاد جو اپنے والدین کے لئے دعاء کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1631
الحكم: إسناده صحيح، م: 1631
حدیث نمبر: 8845 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ" قِيلَ: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتْبَعْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون سے حقوق ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) دعوت دے تو قبول کرے (٣) خیرخواہی چاہے تو اس کی خیرخواہی کرے (٤) چھینکے تو اس کا جواب دے (٥) بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے (٦) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1240، م: 2162
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 8846 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ وَالْخَيْلُ وَالْوَبَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان یمن والوں کا بہت عمدہ ہے کفر مشرق کی جانب ہے سکون و اطمینان بکری والوں میں ہوتا ہے فخر و ریاکاری گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 8847 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى تُقَادَ الشَّاةُ الْجَلْحَاءُ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کے بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2582
الحكم: إسناده صحيح، م: 2582
حدیث نمبر: 8848 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " بَادِرُوا فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8848]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 118
الحكم: إسناده صحيح، م: 118
حدیث نمبر: 8849 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أبي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أبي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، أوِ الدَّجَّالَ، أوِ الدُّخَانَ، أوِ الدَّابَّةَ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج دھواں چھا جانا دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2947
الحكم: إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 8850 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ آمَنَ النَّاسُ حِينَئِذٍ أَجْمَعُونَ، وَيَوْمَئِذ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ جائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8850]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2114
الحكم: إسناده صحيح، م: 2114
حدیث نمبر: 8851 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھنٹی شیطان کا باجا ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4636، م: 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4636، م: 157
حدیث نمبر: 8852 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: سَعِّرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّمَا يَرْفَعُ اللَّهُ وَيَخْفِضُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ"، قَالَ آخَرُ: سَعِّرْ، فَقَالَ:" ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چیزوں کے نرخ مقرر کردیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نرخ مہنگے اور ارزاں اللہ ہی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے اس حال میں ملوں کہ میری طرف کسی کا کوئی ظلم نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8853 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ"، قَالُوا: وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو لعنت زدہ کاموں سے بچو صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کام کون سے ہیں؟ فرمایا لوگوں کی گذرگاہ میں یا سایہ کی جگہ (آرام گاہ) میں اپنے پیٹ کا بوجھ ہلکا کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 269
الحكم: إسناده صحيح، م: 269
حدیث نمبر: 8854 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس پر دس رحمتیں بھیجتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 408
الحكم: إسناده صحيح، م: 408
حدیث نمبر: 8855 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8855]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 46
الحكم: إسناده صحيح، م: 46
حدیث نمبر: 8856 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کے حصے میں صرف بھوک پیاس آتی ہے اور کتنے ہی تراویح میں قیام کرنے والے ہیں جن کے حصے میں صرف شب بیداری آتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8856]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8857 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَمْرٌو ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا، حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے زمانے کے تسلسل میں بنی آدم کے سب سے بہترین زمانے میں منتقل کیا جاتا رہا ہے یہاں تک کہ مجھے اس زمانے میں مبعوث کردیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8857]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده جيد، خ: 3557
الحكم: صحيح، وإسناده جيد، خ: 3557
حدیث نمبر: 8858 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَمْرٌو ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَّا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْكَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصَةً مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کے بارے میں سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہارے حرص دیکھ رہا ہوں جو شخص خلوص دل کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8858]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد جيد ، خ: 6570
الحكم: صحيح، وهذا إسناد جيد ، خ: 6570
حدیث نمبر: 8859 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، عَمْرٌو ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ، مُتَوَكِّئًا عَلَيْهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ؟" قَالَ ابْنَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ، فَقَالَ لَهُ:" ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عمر رسیدہ آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ ان بزرگ کا کیا معاملہ ہے؟ (یہ سوار کیوں نہیں ہوجاتے؟) اس کے بیٹوں نے بتایا کہ یا رسول للہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہوں نے منت مان رکھی تھی (اسے پورا کرنے کے لئے سوار نہیں ہو رہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بزرگو! سوار ہوجاؤ اللہ آپ اور آپ کی منت سے بڑا غنی ہے (وہ قبول کرلے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8859]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده جيد، م: 1643
الحكم: صحيح، وإسناده جيد، م: 1643