بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 161 از 194
حدیث نمبر: 10320 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ" ، قَالَ أَيُّوبُ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَجُلًا شَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی نے مشکیزے کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی پیا تو اس میں سے سانپ نکل آیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5628
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5628
حدیث نمبر: 10321 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، قََالَ: قُلْتُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ شَيْئًا تُحَدِّثُنِيهِ؟ قََالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَخَيْرُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور الو (کو منحوس سمجھنے کی) کوئی حقیقت نہیں بہترین شگون فال ہے اور نظر لگنا برحق ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10321]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5717، 5755، م: 2220، 2223
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5717، 5755، م: 2220، 2223
حدیث نمبر: 10322 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559، رواية ابن علية عن سعيد قبل الاختلاط، ثم هو متابع
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559، رواية ابن علية عن سعيد قبل الاختلاط، ثم هو متابع
حدیث نمبر: 10323 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَبْنُ جَعْفَرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَبْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قََالَ: ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: " فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
الحكم: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 10324 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَيَزِيدُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ، فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ إِذَا أَتَى السُّوقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1519
الحكم: إسناده صحيح، م: 1519
حدیث نمبر: 10325 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، خَالِدِ بْنِ غَلَّاقٍ الْعَيْشِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ غَلَّاقٍ الْعَيْشِيِّ ، قََالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: وَمَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ شَيْئًا نُطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قََالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ , قََالَ: " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن غلاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے (جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10325]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده حسن، م: 2635
الحكم: صحيح، وإسناده حسن، م: 2635
حدیث نمبر: 10326 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قََالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ:" اكْشِفْ لِي عَنْ بَطْنِكَ , حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مِنْه، قَالَ: فَكَشَفَ لَهُ عَنْ بَطْنِهِ فَقَبَّلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیض اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10326]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لتفرد عمير وروايته عند انفراده ضعيفة
الحكم: إسناده ضعيف، لتفرد عمير وروايته عند انفراده ضعيفة
حدیث نمبر: 10327 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10327]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10328 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ"، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10329 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2587
الحكم: إسناده صحيح، م: 2587
حدیث نمبر: 10330 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي مُصْعَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10330]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5673، م: 2816
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10331 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي السَّلِيلِ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قََالَ: تُوُفِّيَ ابْنَانِ لِي، فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ يُطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ , " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ، يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ: أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ، كَمَا آخُذُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا، فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ، وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں رکا میرا ایک بیٹا فوت ہوگیا تھا جس کا مجھے بہت غم تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے جو ہمیں اپنے مردوں کے حوالے سے خوش کردے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے بچے (جو بچپن ہی میں فوت ہوجائیں) جنت کے ستون ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کوئی بچہ اپنے والدین سے ملے گا تو ان کے کپڑے کا کنارہ پکڑ لے گا جیسے میں نے تمہارے کپڑے کا کنارہ پکڑا ہوا ہے اور اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوگا جب تک اللہ اسے اور اس کے باپ کو جنت میں داخل نہ کردے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10331]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2635
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2635
حدیث نمبر: 10332 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوهُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا أَلْقَيْتُمُوهُ عَنْ عَوَاتِقِكُمْ"، أَوْ قَالَ،" عَنْ ظُهُورِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10332]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1315، م: 944
حدیث نمبر: 10333 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ، فَمَاتَ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا، فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ، يَدْعُو لِلْعَصَبَةِ، أَوْ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ، أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بےمقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، لكن ظاهر الحديث أنه موقوف، م: 1848
الحكم: إسناده صحيح، لكن ظاهر الحديث أنه موقوف، م: 1848
حدیث نمبر: 10334 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، زِيَادَ بْنَ رَبَاحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ رَبَاحٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَخَالَفَ الطَّاعَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، فهو كسابقه
الحكم: إسناده صحيح، فهو كسابقه
حدیث نمبر: 10335 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور اس کا پانی زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10335]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 10336 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ جَلَدْتُهُ"، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا اسے لعنت کی ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و اجر اور قیامت کے دن اپنے قرب کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10336]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 10337 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهَا، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیزدھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیزدھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5778، م: 109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5778، م: 109
حدیث نمبر: 10338 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیرناف بال صاف کرنا (٣) بغل کے بال نوچنا۔ (٤) ناخن کاٹنا (٥) مونچھیں تراشنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5891، م: 257
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5891، م: 257
حدیث نمبر: 10339 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَرَوْحٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ طَلَعَتْ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی ایک رکعت پڑھ لے اور سورج نکل آئے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608