بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 55 از 194
حدیث نمبر: 8199 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، أَوْ شَتَمْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 8200 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ قَبْلَنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجَزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال قرار نہیں دیا گیا لیکن اللہ نے جب ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو اسے ہمارے لئے حلال قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
حدیث نمبر: 8201 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتْ النَّارَ امْرَأَةٌ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا، تُرَمِّمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 8202 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسْرِقُ سَارِقٌ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي زَانٍ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَغِلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغِلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ" ، فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی عمدہ چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اٹھا کر دیکھیں لوٹتے وقت مومن نہیں ہوتا اور تم میں سے کوئی شخص خیانت کرتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57، وقوله: « فإياكم إياكم » من قول أبي هريرة
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57، وقوله: « فإياكم إياكم » من قول أبي هريرة
حدیث نمبر: 8203 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 153
الحكم: إسناده صحيح، م: 153
حدیث نمبر: 8204 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلْقَوْمِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 8205 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ" . قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: يَعْنِي: الْعَرْفُ: الرِّيحُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تر و تازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8205]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 8206 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي، فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا وَلَا آكُلُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واللہ جب میں اپنے گھر واپس جاتاہوں اور مجھے اپنے بستر پر یا گھر کے اندر کوئی کھجور گری پڑی نظر آتی ہے تو میں اسے کھانے کے لئے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہیں یہ صدقہ کی نہ ہو تو میں اسے ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2432، م: 1070
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2432، م: 1070
حدیث نمبر: 8207 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُونَ تَسْتَفْتُونَ حَتَّى يَقُولَ أَحَدُكُمْ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتی کہ تم میں سے بعض لوگ یہ سوال بھی کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8207]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135
حدیث نمبر: 8208 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے متعلق اپنی قسم پر (غلط ہونے کے باوجود) اصرار کرے تو یہ اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں اس کفارہ سے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے زیادہ بڑے گناہ کی بات ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6625، م: 1655
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6625، م: 1655
حدیث نمبر: 8209 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ، وَاسْتَحَبَّاهَا، فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب دو آدمیوں کو قسم کھانے پر مجبور کیا جائے اور دونوں قسم کھانا چاہیں تو قرعہ اندازی کر لینی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2674
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2674
حدیث نمبر: 8210 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا أَحَدُكُمْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا يَرْضَى، وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 8211 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّيْخُ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت پیدا ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8211]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 8212 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ہوسکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ سے اسے چھین لے اور وہ آدمی جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7072، م: 2617
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7072، م: 2617
حدیث نمبر: 8213 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایسا کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8213]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4073، م: 1793
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4073، م: 1793
حدیث نمبر: 8214 مسند احمد
وَقَالَ: " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس آدمی پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوتا ہے جسے کسی نبی نے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنے ہاتھ سے قتل کیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8214]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8215 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ لَا مَحَالَةَ، فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ، وَيُصَدِّقُهَا الإِعْرَاضُ، وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ النُّطْقُ، وَالْقَلْبُ التَّمَنِّي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا ثَمَّ وَيُكَذِّبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے۔ انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8215]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657
حدیث نمبر: 8216 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا فَأَقَمْتُمْ فِيهَا، فَسَهْمُكُمْ فِيهَا، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس بستی میں تم داخل ہوئے اور وہاں کچھ عرصہ اقامت کی اس کی فتح کے بعد مال غنیمت میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول کا ہے پھر تمہارا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1756
الحكم: إسناده صحيح، م: 1756
حدیث نمبر: 8217 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ، فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَكُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِمِثْلِهَا حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے اسلام میں حسن پیدا ہوجائے تو ہر وہ نیکی جو وہ کرتا ہے اس کے بدلے میں دس سے لے کر سات سو گنا تک ثواب لکھا جاتا ہے اور ہر وہ گناہ جو اس سے سرزد ہوتا ہے وہ صرف اتنا ہی لکھا جاتا ہے۔ تاآنکہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8217]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 42، م: 129
الحكم: إسناده صحيح، خ: 42، م: 129
حدیث نمبر: 8218 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا قَامَ أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ، فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَفِيهِمْ الضَّعِيفَ وَفِيهِمْ السَّقِيمَ، وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ، فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بیمار سب ہی ہوتے ہیں البتہ جب تنہا نماز پڑھا کرو تو جتنی مرضی طویل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 703، م: 467
الحكم: إسناده صحيح، خ: 703، م: 467