وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَا أَحَدُكُمْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا يَرْضَى، وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524