بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 6 از 194
حدیث نمبر: 7219 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609.
حدیث نمبر: 7220 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ، كُلَّمَا خَفَضَ، وَرَفَعَ وَيَقُولُ" إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے ہوئے جب بھی سر کو جھکاتے یا بلند کرتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے کہ میں تم سب سے زیادہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 785، م: 392.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 785، م: 392.
حدیث نمبر: 7221 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ، فَلْيَنْثُرْ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ، فَلْيُوتِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدداختیار کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 161، م: 237.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237.
حدیث نمبر: 7222 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَن ، مَالِكٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ يَوْمًا، وَلَيْلَةً، إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ مِنْ أَهْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339.
حدیث نمبر: 7223 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا بَيْنَ بَيْتِي، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391.
حدیث نمبر: 7224 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، فَأَكْلُهُ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ درندہ جو کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو اسے کھانا حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1933.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1933.
حدیث نمبر: 7225 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے پس جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7225]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1804، م: 1927.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1804، م: 1927.
حدیث نمبر: 7226 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ، وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ، لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُوا مَا فِي التَّهْجِيرِ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُوا مَا فِي الْعِشَاءِ، وَالصُّبْحِ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیرحاصل نہ ہوسکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7226]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 615، م: 437.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 615، م: 437.
حدیث نمبر: 7227 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَقُولَ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک (ایسا نہ ہو جائے کہ) ایک آدمی دوسرے کی قبر پر سے گزرے گا اور کہے گا کہ اے کاش! میں تیری جگہ ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7227]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7115، م: 7342 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7115، م: 7342 .
حدیث نمبر: 7228 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب دجال و کذاب لوگ نہ آ جائیں جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہو گا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7115، م: 7342 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7115، م: 7342 .
حدیث نمبر: 7229 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ" كَذَاكَ عِلْمِي، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي، رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103.
حدیث نمبر: 7230 مسند احمد
عبدُ الرحمن ، مَالِكٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبدُ الرحمن ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ، فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ، فَأَتِمُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602.
حدیث نمبر: 7231 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، وَرَوْحٌ ، مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ . وَرَوْحٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ رَوْحٌ: ابْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: رَوْحٌ: أَبُو الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: قَالَ رَوْحٌ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطرآپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2566.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2566.
حدیث نمبر: 7232 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھآ جائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382.
حدیث نمبر: 7233 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقي ، الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حدثنا مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقي ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَاءِ الْبَحْرِ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سمندر کے پانی کے متعلق فرمایا: کہ اس کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7233]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف في إسناد هذا الحديث كما في «العلل» للدارقطني: 50/3 ، 49
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف في إسناد هذا الحديث كما في «العلل» للدارقطني: 50/3 ، 49
حدیث نمبر: 7234 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ، وَلَا الطَّاعُونُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کے سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1880، م: 1379.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1880، م: 1379.
حدیث نمبر: 7235 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے وہ بھلائی پہنچا دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5645.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5645.
حدیث نمبر: 7236 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا، فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ مَا فِي دُونِ خَمْسَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرایا یعنی پانچ وسق یا اس سے زیادہ مقدار کو اندازے سے بیچنے کی رخصت عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2190، م: 1541.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2190، م: 1541.
حدیث نمبر: 7237 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہو جائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588.
حدیث نمبر: 7238 مسند احمد
الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مَقَامَهُ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ: أَنْ مَكَانَكُمْ، فَخَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ، وَرَأْسُهُ يَنْطِفُ، فَصَلَّى بِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 640، م: 605.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 640، م: 605.