بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 149 از 194
حدیث نمبر: 10080 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٌ ، عُمَارَةَ ، ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، فَلَقِيتُ ابْنَ الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي , عَنِ أَبِيهِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَإِنْ صَامَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10080]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه
حدیث نمبر: 10081 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٍ ، ابْنُ الْمُطَوِّسِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، سُفْيَان ، حَبِيبٌ ، عُمَارَةُ ، أَبِي الْمُطَوِّس ، أَبُو نُعَيْمٍ ، أَبُو الْمُطَوِّس
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَلَا رُخْصَةٍ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، وَإِنْ صَامَهُ" ، قَالَ سُفْيَان : قَالَ حَبِيبٌ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، عَنِ أَبِي الْمُطَوِّس ، فَلَقِيتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي. حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، فَقَالَ: أَبُو الْمُطَوِّس .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10081]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10082 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٍ ، ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ أَبِيهِ , فَذَكَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10082]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10083 مسند احمد
يَحْيَى ، أَشْعَثَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَاجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10083]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 291 ، م: 348، الحسن: لم يسمع من أبي هريره لكن عرفت الواسطه بينهما، وهو أبو رافع الثقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 291 ، م: 348، الحسن: لم يسمع من أبي هريره لكن عرفت الواسطه بينهما، وهو أبو رافع الثقه
حدیث نمبر: 10084 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَة ، َعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سُئِلَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سرانجام دیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10084]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6599، م: 2659
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6599، م: 2659
حدیث نمبر: 10085 مسند احمد
يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَانْخَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ؟" قَالَ: كُنْتَ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوگئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پاکر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آکر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 283، م: 371
الحكم: إسناده صحيح، خ: 283، م: 371
حدیث نمبر: 10086 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَة، فَقَالَ رَجُلٌ: عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ"، قَال: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَر، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ، قَال،" أَنْتَ أَبْصَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، یک آدمی کہنے لگا کہ اگر میرے پاس صرف ایک دینار ہو تو؟ فرمایا اسے اپنی ذات پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا اپنی بیوی پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا اسے اپنے بچے پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا اسے اپنے خادم پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو؟ فرمایا تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10086]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 10087 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَوْ عَنِ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الْأَعْمَشُ، قََالَ:" يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: اقْرَهْ وَارْقَهْ، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن حامل قرآن سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا، تیر ا ٹھکانہ اس آخری آیت پر ہوگا جو تو پڑھے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو في حكم المرفوع
الحكم: إسناده صحيح، وهو في حكم المرفوع
حدیث نمبر: 10088 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، عَبَّادٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ . وَإِسْمَاعِيلُ , قََالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ , الْمَعْنَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قال: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ، وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ" ، وَقَالَ وَكِيعٌ: فِي حَدِيثِهِ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة الشورى آية 25 وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ، وَ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیزصدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10088]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات، خ: 1410، م: 1014
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 10089 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْإِمَامَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى الْإِمَامَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835
حدیث نمبر: 10090 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قََالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: قََالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو دوسری پر ترجیح دیتا ہو (ناانصافی کرتا ہو) وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا جسم فالج زدہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10091 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، وَأَبِي رَزِينٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , وَأَبِي رَزِينٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ كَذَا , قََالَ: الْأَعْمَشُ قََالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 10092 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمَطْهَرَةِ، فَقَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10093 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وضو اسی وقت واجب ہوتا ہے جب آواز آئے یا خروج ریح ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10094 مسند احمد
وَكِيعٌ ، دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُومَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسی کو پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو وہ نماز کے لئے کھڑا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10094]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه و شواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
الحكم: صحيح بطرقه و شواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10095 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قََالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أُذِّنَ فِيهِ بِالْعَصْرِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز عصر کی اذان کے بعد ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10095]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10096 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو مَوْدُودٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِي أَوْ الْمَسْجِدِ فَلْيَحْفِرْ وَلْيُعَمِّق، أَوْ لِيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ حَتَّى يُخْرِجَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوکنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ خوب زیادہ مٹی کھود لے ورنہ اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10096]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده حسن، خ: 416، م: 550
الحكم: صحيح، وإسناده حسن، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 10097 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، قََالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " صَلَّى صَلَاةً تَجَوَّزَ فِيهَا، فَقُلْتُ لَهُ: هَكَذَا كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ , وَأَوْجَزَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھتے تھے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں! بلکہ اس سے بھی مختصر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10097]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10098 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10099 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو) ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ، کمزور اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 703، م: 467
الحكم: إسناده صحيح، خ: 703، م: 467