بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 74 از 194
حدیث نمبر: 8580 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ تُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8580]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 26 ، م : 83 ، وھذا إسناد ضعیف ، أبو جعفر مجھول ، وقد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 26 ، م : 83 ، وھذا إسناد ضعیف ، أبو جعفر مجھول ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8581 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو جَعْفَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَهُنَّ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعاء اور باپ کی اپنے بیٹے کی متعلق دعاء۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8581]
حکم دارالسلام
حسن لغیرہ ، و إسنادہ ضعیف کسابقه
الحكم: حسن لغیرہ ، و إسنادہ ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8582 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عِسْلٍ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عِسْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ السَّدْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا: ہے کہ وہ جس کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8582]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف لضعف عسل
الحكم: إسنادہ ضعیف لضعف عسل
حدیث نمبر: 8583 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيد ، أَبِي هرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيد ، عَنْ أَبِي هرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ صَلَّى عَلَيْهِ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8583]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 1245 ، م : 951 ، محمد بن إسحاق ، و إن عنعن ، قد تابعه غیر واحد
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 1245 ، م : 951 ، محمد بن إسحاق ، و إن عنعن ، قد تابعه غیر واحد
حدیث نمبر: 8584 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " أَبْرِدُوا عن الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ، فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ اور ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8584]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 533 ، 772 ، م : 396 ، 615
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 533 ، 772 ، م : 396 ، 615
حدیث نمبر: 8585 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً أَوْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8585]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 556 ، م : 608
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 556 ، م : 608
حدیث نمبر: 8586 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھو لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8586]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 162 ، م : 278
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 162 ، م : 278
حدیث نمبر: 8587 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ ذَكَرَ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسَلِّفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ، قَالَ: ائْتِنِي بِشُهَدَاءَ أُشْهِدُهُمْ، قَالَ: كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، قَالَ: ائْتِنِي بِكَفِيلٍ، قَالَ: كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا، قَالَ: صَدَقْتَ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى. فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلْأَجَلِ الَّذِي كَانَ أَجَّلَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا، فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا، وَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَصَحِيفَةً مَعَهَا إِلَى صَاحِبِهَا، ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا، ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي اسْتَلَفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ، فَسَأَلَنِي كَفِيلًا، فَقُلْتُ: كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَسَأَلَنِي شَهِيدًا، فَقُلْتُ: كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا، فَرَضِيَ بِكَ، وَإِنِّي قَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ بِالَّذِي أََعطْاني، فَلَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا، وَإِنِّي اسْتَوْدَعْتُكَهَا، فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَُ، يَنْظُرُ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَطْلُبُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا يَجِيءُ بِمَالِهِ، فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَال، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ، ثُمَّ قَدِمَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ، فَأَتَاهُ بِأَلْفِ دِينَار، وَقَال: َوَاللَّهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ، قَالَ: هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا قَبْلَ هَذَا الَّذِي جِئْتُ فِيهِ؟ قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ بِهِ فِي الْخَشَبَةِ، فَانْصَرِفْ بِأَلْفِكَ رَاشِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے ہزار دینار قرض مانگے اس شخص نے گواہ طلب کئے قرض مانگنے والا کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ شہادت کے لئے کافی ہے وہ کہنے لگا کہ اچھا کسی کی ضمانت دے دو قرض مانگنے والے نے جواب دیا کہ اللہ ہی ضمانت کے لئے کافی ہے اس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو یہ کہہ کر ایک معین مدت کے لئے اس نے اسے ایک ہزار اشرفیاں دے دیں روپیہ لینے والا روپیہ لے کر بحری سفر کو نکلا اور اپنا کام پورا کر کے واپس ہونے کے لئے جہاز کی تلاش کی تاکہ مقررہ مدت کے اندر قرض ادا کردے لیکن جہاز نہ ملا مجبوراً ایک (کھوکھلی) لکڑی کے اندر اس نے اشرفیاں بھریں اور قرض خواہ کے نام ایک خط بھی اس میں رکھ کر خوب مضبوط منہ بند کرکے دریا میں لکڑی ڈال دی اور کہنے لگا کہ الہٰی تو واقف ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ہزار اشرفیاں قرض مانگی تھیں اور جب اس نے ضمانت مانگی تھی تو میں نے کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ضمانت کے لئے کافی ہے وہ تیری ضمانت پر راضی ہوگیا تھا پھر اس نے گواہ طلب کئے تھے اور میں نے کہہ دیا تھا کہ اللہ ہی شہادت کے لئے کافی ہے اس نے تیری شہادت پر رضامند ہو کر مجھے روپیہ دے دیا تھا اب میں نے جہاز کی تلاش میں بہت کوشش کی تاکہ روپیہ اس کو پہنچا دوں لیکن جہاز مجھے نہ ملا اب میں نے یہ اشرفیاں تیرے سپرد کرتا ہوں یہ کہہ کر اس نے وہ لکڑی سمندر میں ڈال دی اور لکڑی پانی میں ڈوب گئی لکڑی ڈال کر وہ واپس آگیا اور واپسی میں بھی جہاز کی جستجو کرتا رہا تاکہ اپنے شہر کو پہنچ جائے۔ اتفاقاً ایک روزقرض خواہ دریا پر یہ دیکھنے کو گیا کہ شاید کوئی جہاز میرا مال لایا ہو (جہاز تو نہ ملا وہی اشرفیاں بھری ہوئی لکڑی نظر پڑی) یہ گھر کے ایندھن کے لئے اس کو لے آیا لیکن توڑنے کے بعد مال اور خط برآمد ہوا کچھ مدت کے بعد قرض دار بھی آگیا اور ہزار اشرفیاں ساتھ لایا اور کہنے لگا اللہ کی قسم میں برابر جہاز کی تلاش میں کوشش کرتا رہا تاکہ تمہارا مال تم کو پہنچا دوں لیکن اس سے پہلے جہاز نہ ملا قرض خواہ نے دریافت کیا کہ تم نے مجھے کچھ بھیجا تھا؟ قرض دار کہنے لگا کہ ہاں بتاتا ہوں چونکہ اس سے پہلے مجھے جہاز نہ ملا تھا اس لئے میں نے لکڑی میں بھر کر روپیہ بھیج دیا تھا قرض خواہ کہنے لگا تو بس جو مال تم نے لکڑی میں بھر کر بھیجا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے مجھے پہنچا دیا لہٰذا تم کامیابی کے ساتھ اپنے یہ ہزار دینار واپس لے جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8587]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2063
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2063
حدیث نمبر: 8588 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ ، أَبَا الْأَسْوَدِ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّاد، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ ضَالَّة، فَلْيَقُلْ لَهُ لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا تو اسے چاہئے کہ یوں کہہ دے اللہ کرے تجھے وہ چیز نہ ملے کیونکہ مساجد (اس قسم کے اعلانات کے لئے) نہیں بنائی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8588]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 568
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 568
حدیث نمبر: 8589 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا!، فَقَالَ مَرْوَانُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصُّكُوكِ وَقَدْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ"، قَالَ: فَخَطَبَ النَّاسَ مَرْوَانُ، فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسِ مَرْوَانَ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تجار کے درمیان چیک کا رواج پڑگیا تاجروں نے مروان سے ان کے ذریعے خریدو فروخت کی اجازت مانگی اس نے انہیں اجازت دے دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: کہ تم نے سودی تجارت کی اجازت دے دی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا: ہے؟ چنانچہ مروان نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس سے منع کردیا۔ سلیمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ مروان نے محافظوں کا ایک دستہ بھیجا جو غیرمزاحم لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8589]
حکم دارالسلام
صحیح ، و إسنادہ قوي ، م : 1528
الحكم: صحیح ، و إسنادہ قوي ، م : 1528
حدیث نمبر: 8590 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، نُعْمَانُ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ ، ابْنِ شِهَاب ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نُعْمَانُ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ ، عَنِ ابْنِ شِهَاب ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَيَشْرَبْ بِيَمِينِه، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب بھی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8590]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد محتمل للتحسین
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد محتمل للتحسین
حدیث نمبر: 8591 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْلَا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8591]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3330 ، م : 1470
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3330 ، م : 1470
حدیث نمبر: 8592 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ الْأَرْيَافُ، فَيَأْتِي نَاسٌ إِلَى مَعَارِفِهِمْ، فَيَذْهَبُونَ مَعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" قَالَهَا مَرَّتَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب سرسبز و شاداب زمینیں فتح ہوں گی لوگ اپنے اپنے ساز و سامان کو لے کر یہاں سے وہاں منتقل ہوجائیں گے حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8592]
حکم دارالسلام
صحیح ، م : 1388 ، وھذ ا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: صحیح ، م : 1388 ، وھذ ا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8593 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ الْإِيمَانُ وَالْكُفْرُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا، وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالْأَمَانَةُ جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کے دل میں ایمان اور کفر جمع نہیں ہوسکتے جھوٹ اور سچ ایک جگہ اکھٹے نہیں ہوسکتے اور خیانت اور امانت ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8593]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، لأنه من روایة العبادلة عن ابن لھیعة
الحكم: حدیث حسن ، لأنه من روایة العبادلة عن ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8594 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ"، قِيلَ: وَمَنْ الشَّقِيُّ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَعْمَلُ بِطَاعَةٍ، وَلَا يَتْرُكُ لِلَّهِ مَعْصِيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں صرف وہی داخل ہوگا جو شقی ہوگا کسی نے پوچھا کہ شقی کون ہے؟ فرمایا: جو نیکی کا کوئی کام کرے نہیں اور گناہ کا کوئی کام چھوڑے نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8594]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف من أجل ابن لھیعة
الحكم: إسنادہ ضعیف من أجل ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8595 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدَكُمْ هَذَا ذَهَبًا أُنْفِقُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ، فَيَمُرُّ بِي ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا، أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8595]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2389 ، م : 991
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2389 ، م : 991
حدیث نمبر: 8596 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، سَلَامَانُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا سَلَامَانُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يُحَدِّثُونَكُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يَفْتِنُونَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں کچھ دجال اور کذاب لوگ آئیں گے تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد نے، ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ان سے دور رہنا کہیں وہ تمہیں فتنے میں مبتلا نہ کردیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8596]
حکم دارالسلام
حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
الحكم: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8597 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَوْلَا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8597]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 3330 ، م : 1470 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 3330 ، م : 1470 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8598 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ ابْنِ آدَمَ أَصَابَ مِنَ الزِّنَا لَا مَحَالَةَ، فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ، وَالنَّفْسُ تَهْوَى وَتُحَدِّثُ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ کا زنا چھونا ہے انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8598]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 6612، م : 2657 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، لکنه قد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 6612، م : 2657 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، لکنه قد توبع
حدیث نمبر: 8599 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ، آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، وَذَلِكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8599]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 4636 ، م : 157 ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ ، قد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 4636 ، م : 157 ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ ، قد توبع