عَفَّانُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ تُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8580]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 26 ، م : 83 ، وھذا إسناد ضعیف ، أبو جعفر مجھول ، وقد توبع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 26 ، م : 83 ، وھذا إسناد ضعیف ، أبو جعفر مجھول ، وقد توبع