بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 91 از 194
حدیث نمبر: 8920 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ، فَقَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ؟" قَالَ: فَسَكَتُوا، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے ہوگئے اور فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر اور سب سے بدتر کون ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اس پر ان میں سے ایک آدمی بولا کیوں نہیں یا رسول اللہ فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید ہو اور اس کے شر سے امن ہو اور سب سے بدتر وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ ہو اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8920]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 8921 مسند احمد
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم قَالَ: هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ»
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8922 مسند احمد
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا»
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گذشہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8922]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 1891
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 1891
حدیث نمبر: 8923 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک کے درمیانی فاصلے میں جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6477، م: 2988
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6477، م: 2988
حدیث نمبر: 8924 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ الْهَادِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا تَقُولُونَ؟ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟" قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ:" ذَاكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے کے سامنے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس سے روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو کیا خیال ہے کہ اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کوئی میل کچیل نہ رہے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز پنجگانہ کی مثال بھی یہی ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 667
الحكم: إسناده صحيح، م: 667
حدیث نمبر: 8925 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ الْهَادِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ لَمْ يَقُلْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأنظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 8926 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُهَا وَأَعْلَاهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں جن میں سب سے افضل اور اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 9، م: 35
الحكم: إسناده صحيح، خ: 9، م: 35
حدیث نمبر: 8927 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ: " أَحْسِنُوا صَلَاتَكُمْ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ أَمَامِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم خوب اچھی طرح نماز ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8927]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8928 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُلْدَغُ مُؤْمِنٌ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کو ایک ہی سوارخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6133، م: 2998
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6133، م: 2998
حدیث نمبر: 8929 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَالْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَالْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبَقَ دِرْهَمٌ دِرْهَمَيْنِ"، قَالُوا: وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ، فَتَصَدَّقَ أَجْوَدَهمُا، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک درہم دو درہموں پر سبقت لے گیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ فرمایا ایک آدمی کے پاس صرف دو درہم تھے اس نے ان میں سے بھی ایک صدقہ کردیا دوسرا آدمی اپنے لمبے چوڑے مال کے پاس پہنچا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم نکال کر صدقہ کردئیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8929]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8930 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچاسکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی پر قائم ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8930]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8931 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بن حكيم ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بن حكيم ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ آمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہوتا ہے جس کی طرف سے لوگوں کو اپنی جان اور مال کا امن ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8931]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8932 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنْ بَنِي آدَمَ كُتِبَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ، وَالْآذَانُ زِنَاهَا الِاسْتِمَاعُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْمَشْيُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لا محالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے کان کا زنا سننا ہے ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے پاؤں کا زنا چلنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے انسان کا تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8932]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، خ: 6612 ، م: 2657
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، خ: 6612 ، م: 2657
حدیث نمبر: 8933 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذَا زَبِيبَتَيْنِ، يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، وَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (جس شخص کے پاس مال و دولت ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو) قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو ھاریں ہوں گی بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر چبانے لگے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8933]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 6958، م: 987
الحكم: حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 6958، م: 987
حدیث نمبر: 8934 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ فِي حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8934]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6420، م: 1046
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 8935 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وأبي الزناد ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وأبي الزناد ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" نَهَى عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2146، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2146، م: 1511
حدیث نمبر: 8936 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، مَالِكٌ ، مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دینار ایک دینار کے بدلے میں اور ایک درہم ایک درہم کے بدلے میں ہوگا اور ان کے درمیان کمی پیشی نہیں ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1588
الحكم: إسناده صحيح، م: 1588
حدیث نمبر: 8937 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَلَقَّوْا السِّلَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بائع (بچنے والا) نہ بنے آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور باہر ہی باہر جا کر تاجروں سے مل کر سامان مت خریدو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 8938 مسند احمد
وَقَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2287، م: 1564
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2287، م: 1564
حدیث نمبر: 8939 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ: " إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ" فَقَالَتْ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ الدَّمُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكِ الْمَاءُ، وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہو کر کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور اس میں مجھ پر ناپاکی کے ایام بھی آتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم پاک ہوجایا کرو تو جہاں خون لگا ہو وہ دھو کر اس میں ہی نماز پڑھ لیا کرو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر خون کے دھبے کا نشان ختم نہ ہو تو؟ فرمایا پانی کافی ہے اس کا نشان ختم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8939]
حکم دارالسلام
حديث حسن، قد روي عن ابن لهيعة أيضاً عبدالله بن وهب، وروايته عنه صالحة
الحكم: حديث حسن، قد روي عن ابن لهيعة أيضاً عبدالله بن وهب، وروايته عنه صالحة