بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 50 از 194
حدیث نمبر: 8099 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ ، أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8099]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب
حدیث نمبر: 8100 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَيُّوبُ ، أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبْتَاعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَشْتَرِطُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اسے وہ مل کررہے گا جو اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8101 مسند احمد
هَاشِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، أَبُو سَعْدٍ الْحِمْصِيُّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَرَجُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَعَوَاتٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ، وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ، وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ، وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ دعائیں سنی ہیں میں جب تک زندہ ہوں انہیں ترک نہیں کروں گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے اے اللہ مجھے اپنا شکر ادا کرنے والا کثرت سے اپنا ذکر کرنے والا اپنی نصیحت کی پیروی کرنے والا اور اپنی وصیت کی حفاظت کرنے والا بنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8101]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الفرج، وأبو سعيد اختلف فى تعيينه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الفرج، وأبو سعيد اختلف فى تعيينه
حدیث نمبر: 8102 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ:" لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ، وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ، وَفِيهَا الْبَطْشَةُ، وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ جمعہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کو جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسی دن تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی جمع کی گئی اسی دن صور پھونکاجائے گا اسی میں مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اسی میں پکڑ ہوگی اور اس دن کی آخری تین ساعتیں ایسی ہیں کہ ان میں جو شخص اللہ سے دعا کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8102]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الفرج، وعلي ليس بذاك، ولم يدرك أبا هريرة، فهو منقطع
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الفرج، وعلي ليس بذاك، ولم يدرك أبا هريرة، فهو منقطع
حدیث نمبر: 8103 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ، وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8103]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده جيد، م: 2564
الحكم: صحيح، وإسناده جيد، م: 2564
حدیث نمبر: 8104 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، شَرِيكٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى المعنى، واللفظ لفظ يحيى بن آدم قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ، فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ بيَدَهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ، فَتَوَضَّأَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی ایک مرتبہ بیت الخلاء میں داخل ہوئے میں ایک برتن لے کر حاضر ہوا جس میں پانی تھا نبی نے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر اسے دھویا پھر میں ایک برتن لایا نبی نے اس سے وضو فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8104]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8105 مسند احمد
أَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ
قَالَ أَسْوَدُ يَعْنِي شَاذَانَ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ فِي رَكْوَةٍ، وَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8105]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8106 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ: أَمَرَنِي بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى كُلَّ يَوْمٍ، وَالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ، وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، کتے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8106]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف شريك، وأصله في، خ: 1178، م: 721
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف شريك، وأصله في، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 8107 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ مَوْهَبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8107]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
حدیث نمبر: 8108 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کی کھال تک پہنچ جائے یہ کسی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8108]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 971، وهذا إسناد فيه شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 971، وهذا إسناد فيه شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8109 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8109]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8110 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا سورة البقرة آية 58، قَالَ: " دَخَلُوا زَحْفًا"، وَقُولُوا حِطَّةٌ سورة البقرة آية 58، قَالَ:" بَدَّلُوا فَقَالُوا: حِنْطَةٌ فِي شَعَرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادباری تعالیٰ ادخلوا الباب سجدا کی تفسیر میں فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ اپنی سرینوں کے بل گھستے ہوئے اس شہر میں داخل ہوں اور یوں کہیں حطۃ (الہٰی معاف فرما) لیکن انہوں نے اس لفظ کو بدل دیا اور کہنے لگے حنطۃ فی شعیرۃ (گندم درکار ہے جو کے ساتھ) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4479، م: 3015
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4479، م: 3015
حدیث نمبر: 8111 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ أَوْ قَالَ: إِلَى الْمَسْجِدِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2707، م: 1009
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2707، م: 1009
حدیث نمبر: 8112 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ " سَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ کا نام چال رکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3029، م: 1740
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3029، م: 1740
حدیث نمبر: 8113 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ، قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَ خَضِرًا أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى فَرْوَةٍ بَيْضَاءَ، فَإِذَا هِيَ تَحْتَهُ تَهْتَزُّ خَضْرَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت خضر علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ انہیں خضر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک سفید گھاس پر بیٹھے تو وہ نیچے سے سبز رنگ میں تبدیل ہو کر لہلہانے لگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3402
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3402
حدیث نمبر: 8114 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَجِيءُ الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، هُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8115 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا يَوْمُهُمْ الَّذِي فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ وہ روایات ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8115]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 876، م: 855
الحكم: إسناده صحيح، خ: 876، م: 855
حدیث نمبر: 8116 مسند احمد
وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا، فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا وَأَجْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ، وَيُعْجِبُهُمْ الْبُنْيَانُ، فَيَقُولُونَ: أَلَا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً، فَيَتِمُّ بُنْيَانُكَ" فَقَالَ مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے ایک نہایت حسین و جمیل اور مکمل عمارت بنائی البتہ اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286
حدیث نمبر: 8117 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي يَقَعْنَ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجِزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ، فَتَتَقَحَّمُ فِيهَا"، قَالَ:" فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ: هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّّ فَتَغْلِبُونِي، تَقْتَحِمُونَ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کردیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے وہ شخص انہیں پشت سے پکڑ کر کھینچنے رہا ہوں کہ آگ سے بچ جاؤ اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284
حدیث نمبر: 8118 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے باہم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ایک دوسرے سے مسابقت نہ کرو ایک دوسرے سے بغض نہ کرو ایک دوسرے سے قطع رحمی نہ کرو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563