بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 18 از 194
حدیث نمبر: 7459 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، الْحَسَنَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثَلَاثٌ أَوْصَانِي بِهِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَدَعُهُنَّ أَبَدًا: الْوَتْرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرِ، وَالْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7459]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1187، م: 721، وهذا الإسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1187، م: 721، وهذا الإسناد فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7460 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدرَكَ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7460]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
حدیث نمبر: 7461 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ، فَعَصًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا، فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7461]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن عمرو وأبيه.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن عمرو وأبيه.
حدیث نمبر: 7462 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ"، قَالَ: فَقَالَ:" بْقَمِيصَةِ"، قَالَ: فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7462]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به عمير بن إسحاق، وأن حديثه ضعيف عند ما انفرد به.
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به عمير بن إسحاق، وأن حديثه ضعيف عند ما انفرد به.
حدیث نمبر: 7463 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7463]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408.
حدیث نمبر: 7464 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ:" الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَمَا يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ، وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ،. وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ: وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر، عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7464]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 797، م: 676.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 797، م: 676.
حدیث نمبر: 7465 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة بن عبد الرحمن ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ، أَوْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ، قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَرُبَّمَا، قَالَ، إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ":" اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ"، قَالَ: يَجْهَرُ بِذَلِكَ، وَيَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا"، حَيَّيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا یا کسی کے حق میں دعا کا ارادہ فرماتے تو رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد کہنے کے بعد یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا بلند آواز میں فرماتے تھے اور بعض اوقات نماز فجر میں عرب کے دو قبیلوں کا نام لے کر فرماتے تھے اے اللہ فلاں فلاں پر لعنت نازل فرما یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے تو ان پر متوجہ ہو یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4560، م: 675.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4560، م: 675.
حدیث نمبر: 7466 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 360، م: 516.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 360، م: 516.
حدیث نمبر: 7467 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، يَعْقُوبُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، الْخَفَّافُ ، أَبِي يَعْقُوبَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَحْتَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ. حَدَّثَنَاه الْخَفَّافُ ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7467]
حکم دارالسلام
الحديث صحيح، خ: 5787، قد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
الحكم: الحديث صحيح، خ: 5787، قد اختلف الرواة في إسناد هذا الحديث.
حدیث نمبر: 7468 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شِقْصٌ فِي مَمْلُوكٍ، فَأَعْتَقَ نِصْفَهُ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ، غَيْرَ مَشْقُوقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7468]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503.
حدیث نمبر: 7469 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، ضَمْضَمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ". قَالَ يَحْيَى: وَالْأَسْوَدَانِ الْحَيَّةُ، وَالْعَقْرَبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جاسکتا ہے یحییٰ نے دو کالی چیزوں کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7469]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7470 مسند احمد
يَزِيدُ ، مِسْعَرٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا، أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
حدیث نمبر: 7471 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ". قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" حَتَّى تَرْجِعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ وہ واپس آجائے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7471]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 5194، م: 1436.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 5194، م: 1436.
حدیث نمبر: 7472 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، وَجَعَلَ ابْنُ عَوْنٍ يُرِينَا بِكَفِّهِ الْيُمْنَى، فَقُلْنَا: يُزَهِّدُهَا لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کر رہا ہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852.
حدیث نمبر: 7473 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ جميعا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7473]
حکم دارالسلام
صحيح،.خ: 533، م: 615، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف.
الحكم: صحيح،.خ: 533، م: 615، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف.
حدیث نمبر: 7474 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَمَمْتُمْ، فَخَفِّفُوا، فَإِنَّ فِيكُمْ الْكَبِيرَ، وَالضَّعِيفَ، وَالصَّغِيرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7474]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 703، م: 467.
الحكم: حديث صحيح، خ: 703، م: 467.
حدیث نمبر: 7475 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَوْ رَأَيْتُ الْأَرْوَى تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا، وَلَا مَسِسْتُهَا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ، أَوْ يُعْضَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں پہاڑی بکرے کو گھومتا ہوا دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نہ ہاتھ لگاؤں کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ کے درختوں کے پتے توڑنے یا کانٹے کو حرام قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7475]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1873، م: 1372، وهذا إسناد ضعيف، حبيب الهذلي مجهول.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1873، م: 1372، وهذا إسناد ضعيف، حبيب الهذلي مجهول.
حدیث نمبر: 7476 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ عَوْنٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ، إِذَا أَشَارَ لِأَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ، وَأُمِّهِ". وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف خواہ وہ حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو کسی تیز دھار چیز سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7072، م: 2616.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7072، م: 2616.
حدیث نمبر: 7477 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، الْجُلَاسِ ، عُثْمَانَ بْنِ شَمَّاسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُلَاسِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ شَمَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرَّ عَلَيْهِ مَرْوَانُ، فَقَالَ 0: بَعْضَ حَدِيثِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ حَدِيثَكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقُلْنَا: الْآنَ يَقَعُ بِهِ، قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزَ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ رَزَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا تَعْلَمُ سِرَّهَا، وَعَلَانِيَتَهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ، فَاغْفِرْ لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیر بعدوہ واپس آگیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7477]
حکم دارالسلام
ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده، وجهالة بعض رواته، ورواية بعضهم له موقوفا.
الحكم: ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده، وجهالة بعض رواته، ورواية بعضهم له موقوفا.
حدیث نمبر: 7478 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زِيَادٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا كِسْرَى بَعْدَ كِسْرَى، وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ قَيْصَرَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7478]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 3618، م: 2918، وهذا إسناد ضعيف، زياد المخزومي مجهول.
الحكم: صحيح، خ: 3618، م: 2918، وهذا إسناد ضعيف، زياد المخزومي مجهول.