يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَوْ رَأَيْتُ الْأَرْوَى تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا، وَلَا مَسِسْتُهَا، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ، أَوْ يُعْضَدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں پہاڑی بکرے کو گھومتا ہوا دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں اور نہ ہاتھ لگاؤں کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدینہ کے درختوں کے پتے توڑنے یا کانٹے کو حرام قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7475]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1873، م: 1372، وهذا إسناد ضعيف، حبيب الهذلي مجهول.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1873، م: 1372، وهذا إسناد ضعيف، حبيب الهذلي مجهول.