بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 63 از 194
حدیث نمبر: 8359 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ حَمَلَ السِّلَاحَ عَلَيْنَا فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے خلاف اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8359]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 101
الحكم: صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 101
حدیث نمبر: 8360 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ، أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ ہے جو افطار کا وقت ہوجانے کے بعد روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8360]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قرة
حدیث نمبر: 8361 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رِفَاعَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ كُلَّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ أَوْ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عزَّّ وجلَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ، فَيَقُولُ: أَخِّرْهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتے ہیں سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8361]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2565، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن رفاعة ، ولكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 2565، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن رفاعة ، ولكنه متابع
حدیث نمبر: 8362 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيُّ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيُّ ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مرد و عورت اس منبر کے قریب جھوٹی قسم کھائے اگرچہ ایک تر مسواک ہی کے بارے میں کیوں نہ ہو اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8363 مسند احمد
أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے نفرت نہ کرے کیونکہ اگر اس کی ایک عادت ناپسند ہوگی تو دوسری عادت پسند بھی تو ہوسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1469
الحكم: إسناده صحيح، م: 1469
حدیث نمبر: 8364 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ: جَهْجَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دن اور رات کا چکر اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک موالی میں سے جہجاہ نامی ایک آدمی حکمران نہ بن جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2911
الحكم: إسناده صحيح، م: 2911
حدیث نمبر: 8365 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ : أَنَّ صِكَاكَ التُّجَّارِ خَرَجَتْ، فَاسْتَأْذَنَ التُّجَّارُ مَرْوَانَ فِي بَيْعِهَا، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: أَذِنْتَ فِي بَيْعِ الرِّبَا، وَقَدْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْتَرَى الطَّعَامُ ثُمَّ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى"، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَرَأَيْتُ مَرْوَانَ بَعَثَ الْحَرَسَ فَجَعَلُوا يَنْتَزِعُونَ الصِّكَاكَ مِنْ أَيْدِي مَنْ لَا يَتَحَرَّجُ مِنْهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تجار کے درمیان چیک کا رواج پڑگیا تاجروں نے مروان سے ان کے ذریعے خریدو فروخت کی اجازت مانگی اس نے انہیں اجازت دے دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ تم نے سودی تجارت کی اجازت دے دی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا ہے؟ سلیمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ مروان نے محافظوں کا ایک دستہ بھیجاجو غیرمزاحم لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8365]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، والمرفوع منه صحيح، م: 1528
الحكم: إسناده قوي، والمرفوع منه صحيح، م: 1528
حدیث نمبر: 8366 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، مَنْ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ، لِإِمَامٍ كَانَ بِالْمَدِينَةِ" ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ بِطُوَالِ الْمُفَصَّل، قَالَ الضَّحَّاكُ: وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى"، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ الضَّحَّاكُ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتاً لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرأت کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8366]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8367 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، سَعِيدٌ أَبُو الْحُبَابِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدٌ أَبُو الْحُبَابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ، قَامَتْ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ. قَالَ: أَمَا تَرْضَيْ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا سورة محمد آية 22 - 24 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو رحم نے کھڑے ہو کر عرش رحمن کے پائے پکڑ لئے اور کہا کہ قطع تعلقی سے پناہ مانگنے والے کا یہ مقام ہے اللہ نے فرمایا کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے جڑوں اور جو توڑے میں اس سے اپنا ناطہ توڑ لوں؟ اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھ لو۔ فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم اولئلک الذین لعنہم اللہ فاصمہم و اعمی ابصارہم افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4830 ، م: 2545
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4830 ، م: 2545
حدیث نمبر: 8368 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حََّدثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَال: ثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَحْلُوفُ رَسُولِ اللَّهِ، مَا أَتَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَا أَتَى عَلَى الْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ مِنْ رَمَضَانَ، وَذَلِكَ لِمَا يُعِدُّ الْمُؤْمِنُونَ فِيهِ مِنَ الْقُوَّةِ لِلْعِبَادَةِ، وَمَا يُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِهِمْ، هُوَ غَنْمٌ وَالْمُؤْمِنُ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8368]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، كثير ليس بالقوي
الحكم: إسناده ضعيف، كثير ليس بالقوي
حدیث نمبر: 8369 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا لَا يُشَكُّ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے اس طرح چمکارتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو چمکارتا ہے جب وہ اس کے قابو میں آجاتا ہے وہ اس کی دونوں سرینوں کے درمیان ہوا خارج کردیتا ہے تاکہ اسے نماز سے بہکا دے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اگر ایسی کیفیت محسوس کرے تو جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ ہونے لگے اس وقت تک نماز توڑ کر نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8369]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 362
الحكم: إسناده قوي، م: 362
حدیث نمبر: 8370 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا كَذَا، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے اس طرح چمکارتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو چمکارتا ہے جب وہ اس کے قابو میں آجاتا ہے تو وہ اس کا جبڑا باندھ دیتا ہے یا منہ میں لگام دے دیتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اسی وجہ سے تم پہلے آدمی کو دیکھو گے کہ وہ ادھر ادھر ڈول رہا ہے اور اللہ کا ذکر نہیں کر رہا اور دوسرے آدمی کو دیکھو گے کہ اس کا منہ کھلا ہوا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8370]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8371 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَكَيْفَ قُلْتَ؟" قَالَ: إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، كَيْفَ قُلْتَ؟" قَالَ: إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرَ مُدْبِر، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ سَارَّنِي بِذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو اللہ کے نزدیک افضل اعمال میں سے قرار دیا ایک آدمی کھڑے ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں میں اپنے دین پر ثابت قدم رہا ہوں اور ثواب کی نیت سے جہاد میں شریک ہوں میں آگے بڑھتا رہا ہوں اور پیٹھ نہ پھیری ہو تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے یہی سوال تین مرتبہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا آخری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی کان میں بتائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8372 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ الْمَمْلُوكِ أَجْرَانِ" ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَجُّ، وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نیک عبد مملوک کے لئے دہرا اجر ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ حج بیت اللہ اور والدہ کی خدمت نہ ہوتی تو میں غلامی کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
حدیث نمبر: 8373 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ ، سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ، إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ، فَمَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! اہل مدینہ کے لئے ان کا مدینہ مبارک فرما اور ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما اے اللہ ابراہیم آپ کے بندے اور خلیل تھے اور میں آپ کا بندہ اور رسول ہوں ابراہیم نے آپ سے اہل مکہ کے لئے دعا مانگی تھی میں آپ سے اہل مدینہ کے لئے ویسی ہی دعا مانگ رہا ہوں جیسی ابراہیم نے اہل مکہ کے لئے مانگی تھی اور اتنی ہی اور بھی۔ پھر فرمایا کہ مدینہ منورہ ملائکہ کے جال میں جکڑا ہوا ہے اس کے ہر سوارخ پر دو فرشتے اس کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں یہاں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتے جو اس کے ساتھ کوئی ناپاک ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8373]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1880، م: 1379 ، 1386
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1880، م: 1379 ، 1386
حدیث نمبر: 8374 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُنَا مُخْتَصِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8374]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1220، م: 545، وهذا إسناد ضعيف، أبو جعفر الرازي سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1220، م: 545، وهذا إسناد ضعيف، أبو جعفر الرازي سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8375 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو جَعْفَرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6155، م: 2257، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 6155، م: 2257، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8376 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ ، وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبِ، وَرَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَقُول: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا فَلْيَقُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی کے پاس شیطان آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ پوچھتا ہے کہ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے اللہ نے پھر وہ پوچھتا ہے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کوئی شخص ایسے خیالات محسوس کرے تو اسے یوں کہہ لینا چاہئے آمنت باللہ و برسلہ (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3276، م: 134
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 134
حدیث نمبر: 8377 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، أَبُو حَيَّانَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الذِّرَاعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دستی کا گوشت پسند تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8377]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8378 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمِينُكَ مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) بھی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8378]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1653، وهذا إسناد ضعيف جداً، عبدالله ابن سعيد متروك
الحكم: حديث صحيح، م: 1653، وهذا إسناد ضعيف جداً، عبدالله ابن سعيد متروك