بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 49 از 194
حدیث نمبر: 8079 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: " ادْخُلْ"، فَقَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ سِتْرًا فِي الْحَائِطِ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَاقْطَعُوا رُؤُوسَهَا، فَاجْعَلُوهَا بِسَاطًا أَوْ وَسَائِدَ فَأَوْطَئُوهُ، فَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا دراصل گھر میں ایک پردہ ہے جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی ہے اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے کیونکہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویریں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8079]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8080 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، دَخَلَ عُمَرُ، فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں کچھ حبشی نیزوں سے کرتب دکھا رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے وہ انہیں مارنے کے لئے کنکریاں اٹھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر انہیں چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8080]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2901، م: 893
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2901، م: 893
حدیث نمبر: 8081 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا، لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8081]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2546
الحكم: إسناده صحيح، م: 2546
حدیث نمبر: 8082 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا، لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کروگے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی پھر اللہ سے معافی مانگے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8082]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2749
الحكم: إسناده صحيح، م: 2749
حدیث نمبر: 8083 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوهُمْ" . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ، فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا، قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیاہ خضاب بہت پسند ہے اور معمر کہتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ سیاہ خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيحان، خ: 5899، م: 2103
الحكم: إسناده صحيحان، خ: 5899، م: 2103
حدیث نمبر: 8084 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جاسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2354، م: 1566
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2354، م: 1566
حدیث نمبر: 8085 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَى بِكَفِّيْهِ (۱) عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ» . ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَثْرَ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: «لَا حَوْلَ (۲) وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ» . ثُمَّ مَشَى سَاعَةٌ فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ، وَمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقُّ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ»
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جا رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیرچلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ ولا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8086 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنٌ فَيَزْدَادَ إِحْسَانًا، وَإِمَّا مُسِيءٌ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7235، م: 2682
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7235، م: 2682
حدیث نمبر: 8087 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس میں یوں کہہ دے لات کی قسم تو اسے دوبارہ کلمہ پڑھنا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلتے ہیں تو اسے صرف اتنی بات کہنے پر کوئی چیز صدقہ کرنی چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4860، م: 1647
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4860، م: 1647
حدیث نمبر: 8088 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَمْ يَحْنَثْ" . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَهُوَ اخْتَصَرَهُ، يَعْنِي مَعْمَرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور ساتھ ہی ان شاء اللہ کہہ لے تو وہ اپنی قسم میں حانث نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8089 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يوُحَنِّسَ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يوُحَنِّسَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ابوقاسم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8089]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1386
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1386
حدیث نمبر: 8090 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ، يَعْنِي لِرَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ:" هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا، فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ: إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا، وَقَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَى النَّارِ"، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ قِيلَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ بِهِ جِرَاحٌ شَدِيدٌ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَى الْجِرَاحِ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ"، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ:" أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مدعی اسلام کے متعلق فرمایا کہ یہ جہنمی ہے جب ہم لوگ لڑائی میں شریک ہوئے تو اس نے خوب بہادری کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا اور اسے کئی زخم آئے کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے جس آدمی کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے اس نے تو آج بڑی بہادری سے جنگ میں حصہ لیا ہے اور فوت ہوگیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم میں پہنچ گیا۔ اس پر قریب تھا کہ لوگ شک میں پڑجاتے کہ اسی دوران کسی نے کہا کہ وہ ابھی مرا نہیں ہے البتہ اس کے زخم انتہائی کاری ہیں رات ہوئی تو وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا اور اس نے خودکشی کرلی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ جنت میں صرف مسلمان آدمی ہی داخل ہوسکے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد بعض اوقات کسی فاسق و فاجر آدمی سے بھی کروا لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3062، م: 111
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3062، م: 111
حدیث نمبر: 8091 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يُذْعِنُ بِالْإِسْلَامِ:" إِنَّ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلَى رِجَالٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ، وَقَدْ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3062، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3062، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8092 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟"، قَالُوا: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، وَالْبَطَنُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہداء کی تعداد بہت کم ہوگی جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرنا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
الحكم: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1915
حدیث نمبر: 8093 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي سِنَانٍ ، أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وأبي هريرة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرَُ، وَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ كُتِبَتْ لَهُ بِهَا عِشْرُونَ حَسَنَةً، وَحُطَّ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً، وَمَنْ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، كُتِبَ لَهُ بِهَا ثَلَاثُونَ حَسَنَةً، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے چار قسم کے جملے منتخب فرمائے ہیں سبحان اللہ والحمد للہ و لاالہ اللہ واللہ اکبر جو شخص سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا بیس گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں جو شخص اللہ اکبر اور لاالہ الا اللہ کہے اس کا بھی یہی ثواب ہے اور جو شخص اپنی طرف سے الحمدللہ رب العلمین کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا تیس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2695
الحكم: إسناده صحيح، م: 2695
حدیث نمبر: 8094 مسند احمد
عَبْدُ الرَّازَّقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَظْهَرُ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ عَلَى الْكَعْبَةِ قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ فَيَهْدِمُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک آدمی خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا اور اسے منہدم کردے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1591، م: 2909
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1591، م: 2909
حدیث نمبر: 8095 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، أَبِي طَارِقٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي طَارِقٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَأْخُذُ مِنْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُهُنَّ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّهُنَّ فِيهَا"، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُكْثِرْ الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کون آدمی ہے جو مجھ سے پانچ باتیں حاصل کرے اور ان پر عمل کرے یا کم از کم کسی شخص کو بتادے جو ان پر عمل کرے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور انہیں شمار کرنے لگے۔ (١) حرام کاموں سے بچوسب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔ (٢) اللہ کی تقسیم پر راضی رہو سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ (٣) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو مومن بن جاؤ گے۔ (٤) جو اپنے لئے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو مسلمان بن جاؤ گے۔ (٥) کثرت سے نہ ہنسا کرو کیونکہ کثرت ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8095]
حکم دارالسلام
حديث جيد، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي طارق، والحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث جيد، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي طارق، والحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8096 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ، وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَانْطَلَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولًا، ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو لِحْيَانَ، فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ، حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ، فَقَالُوا: هَذَا مِنْ تَمْرِ يَثْرِبَ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ، فَلَمَّا أَحَسَّهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ، وَقَدْ جَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ، وَقَالُوا: لَكُمْ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رجلاً، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ. قَالَ: فَقَاتَلُوهُمْ، فَرَمَوْهُمْ، فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ، وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَأَعْطَوْهُمْ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ إِنْ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا: هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ، فَجَرُّوهُ، فَأَبَى أَنْ يَتْبَعَهُمْ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ، حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ، فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ قَدْ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسَى مِنْ إِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، قَالَتْ: فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي، فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزَعًا عَرَفَهُ، وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ، فَقَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ؟! مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. قَالَ: وَكَانَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ، قَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ، وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ. قَالَ: ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ، فَقَالَ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثم قَالَ: لَوْلَا أَنْ تَرَوْا مَا بِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ. قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا: ولستُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ، وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ، فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس آدمی فوج کی طرف سے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجے اور عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا سردار مقرر کیا چنانچہ وہ جاجوس چلے گئے جب مقام ہدہ میں جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے پہنچے تو قبیلہ ہذیل یعنی بنو لحیان کو ان کا علم ہوگیا اور ایک سو تیر انداز ان کے واسطے چلے اور جس جگہ جاسوسوں نے کھجوریں بیٹھ کر کھائی تھیں جو بطور زاد راہ کے مدینہ سے لائے تھے وہاں پہنچ کر کہنے لگے یہ مدینہ کی کھجوریں ہیں پھر وہ کھجوروں کے نشان کی وجہ سے ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے جو کافروں کو دیکھا تو ایک اونچی جگہ پر پناہ لے لی کافروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور کہنے لگے تم اترآؤ اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو ہم اقرار کرتے ہیں کہ کسی کو قتل نہیں کریں گے سردار جماعت یعنی حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ کی قسم آج میں تو کافر کی پناہ میں نہ اتروں گا الٰہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمارے حال کی اطلاع دے دے کفار نے یہ سن کر ان کے تیر مارے اور عاصم سمیت سات آدمیوں کو شہید کردیا با قی تین آدمی یعنی خبیب انصاری زید بن دثنہ اور ایک اور شخص قول وقرار لے کر کفار کی پناہ میں گئے کافروں کا جب ان پر قابو چل گیا تو کمانوں کی تانت اتار کر ان کو مضبوط جکڑ لیا ان میں تیسرا آدمی بولا یہ پہلی عہد شکنی ہے اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ نہ جاؤں گا مجھ کو ان شہیدوں کی راہ پر چلنا ہے کافروں نے اس کو پکڑ کر کھینچا اور ہرچند ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ گیا آخر کار اس کو قتل کردیا اور خبیب و ابن دثنہ کو لے چلے اور واقعہ بدر کے بعد دونوں کو فروخت کردیا خبیب کو حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا جنگ بدر کے دن خبیب نے ہی حارث بن عامر کو قتل کیا تھا بہر حال خبیب ان کے پاس قید رہے حارث کی بیٹی کا بیان ہے کہ جب سب کافر خبیب کو شہید کرنے کے لئے جمع ہوئے تو خبیب نے اصلاح کرنے کے لئے مجھ سے استرا مانگا میں نے دے دیا خبیب نے میرے ایک لڑکے کو ران پر بٹھا لیا مجھے اس وقت خبر نہ ہوئی جب میں اس کے پاس پہنچی اور میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا اس کی ران پر بیٹھا ہے اور استرا اس کے ہاتھ میں ہے تو میں گھبرا گئی خبیب نے بھی خوف کے آثار میرے چہرہ پر دیکھ کر پہچان لیا اور کہنے لگے کہ کیا تم کو اس بات کا خوف ہے کہ میں اس کو قتل کردوں گا اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا بنت حارث کہتی ہے واللہ میں نے خبیب سے بہتر کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا اللہ کی قسم میں نے ایک روز دیکھا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا انگور کا ایک خوشہ ہاتھ میں لئے کھا رہا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں میوہ نہ تھا درحقیقت وہ اللہ داد حصہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو مرحمت فرمایا تھا جب کفار خبیب کو قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر حل میں لے چلے تو قتل ہونے سے قبل خبیب بولے مجھے ذرا چھوڑ دو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں کافروں نے چھوڑ دیا خبیب نے دو رکعتیں پڑھ کر کہا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ یہ لوگ گمان کریں گے کہ موت سے ڈر گیا تو نماز طویل پڑھتا پھر کہنے لگے الہٰی ان سب کو ہلاک کردے ایک کو باقی نہ چھوڑ اس کے بعدیہ شعر پڑھے۔ اگرحالت اسلام میں میرا قتل ہو تو پھر مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں کہ اللہ کے راستہ میں کس پہلو پر میری موت ہوگی۔ میرا یہ مارا جانا اللہ کے راستہ میں ہے اور اگر اللہ چاہے گا تو کٹے ہوئے عضو کے جوڑوں پر برکت نازل فرمائے گا اس کے بعدحارث کے بیٹے نے خبیب کو قتل کردیا۔ حضرت خبیب سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ہر اس مسلمان کے لئے جو اللہ کے راستہ میں گرفتار ہو کر مارا جائے قتل ہوتے وقت دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ نکالا ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے شہید ہوتے وقت جو دعا کی تھی خدا تعالیٰ نے وہ قبول کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبردے دی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے عاصم رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مصائب کی کیفیت بیان فرما دی۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے چونکہ بدر کے دن کفار قریش کے ایک بڑے سردار کو مارا تھا اس لئے کافروں نے کچھ لوگوں کو بھیجا کہ جا کر عاصم کی کوئی نشانی لے آؤ تاکہ نشانی کے ذریعہ سے عاصم کی شناخت ہوجائے لیکن کچھ بھڑوں (زنبور) نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش کو محفوظ رکھا اور کفار حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے بدن کا گوشت نہ کاٹ سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4086
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4086
حدیث نمبر: 8097 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2113
الحكم: إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8098 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَدُ الزِّنَا َشَرُّ الثَّلَاثَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زناء کی پیداوار تین آدمیوں کا شر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح