بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 96 از 194
حدیث نمبر: 9020 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " هُنَّ أَيَّامُ طُعْم"، قَالَ أَبُو عَوَانَة: يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيق .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9020]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9021 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيل: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الطِّيَرَةُ؟ قَالَ: " لَا طَائِر"، ثَلَاثَ مَرَّات، وَقَالَ:" خَيْرُ الْفَأْلِ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! شگون بد سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں البتہ بہترین فال اچھا کلمہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5557، م: 2223
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5557، م: 2223
حدیث نمبر: 9022 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ الْإِقَامَةَ , فَلْيَأْتِ عَلَيْهِ السَّكِينَةُ , فَمَا أَدْرَكَ فَلْيُصَلِّ، وَمَا فَاتَهُ فَلْيُتِمَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اقامت کی آواز سنے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرے جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرے اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9022]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 908، م: 602
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 9023 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فیصلہ کرنے میں (خصوصیت کے ساتھ) رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9023]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9024 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا الَّذِي يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا الَّذِي يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تمنا کرے تو دیکھ لے کہ کس چیز کی تمنا کر رہا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی تمنا میں سے کیا لکھا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9024]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمر عند التفرد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمر عند التفرد
حدیث نمبر: 9025 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أُحُدًا هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ" . قَال عبد الله: قَالَ أَبِي فِيهَا كُلِّهَا، فِي هَذِهِ الْأَرْبَعَة: قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9025]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9026 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " خُذُوا مِنَ الشَّوَارِب، وَأَعْفُوا اللِّحَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9026]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5893، م: 259
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5893، م: 259
حدیث نمبر: 9027 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ حَتَّى يُقَالَ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ؟" . قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَوَاللَّهِ إِنِّي لَجَالِسٌ يَوْمًا , إِذْ قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَل؟، قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَجَعَلْتُ أُصْبُعَيَّ فِي أُذُنَيَّ، ثُمَّ صِحْتُ، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَد، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ سوالات کرتے کرتے یہاں تک جا پہنچیں گے کہ ہمیں تو اللہ نے پیدا کیا لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں تو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس کا سوال سن کر میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور زور سے چیخا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالکل سچ فرمایا تھا اللہ یکتا اور بےنیاز ہے اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ کسی نے اسے جنم دیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9027]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3276، م: 135
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3276، م: 135
حدیث نمبر: 9028 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغَارُ، وَمِنْ غَيْرَةِ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ انسان اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے قریب جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9028]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5223، م: 2761
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 9029 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھر سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9029]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 161، م: 237
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 9030 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ، وَقَالَ مَرَّةً: إِذَا سَرَقَ العبد فَبِعْهُ، وَلَوْ بِنَشٍّ" . وَالنَّشُّ: نِصْفُ الْأُوقِيَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسی کا غلام چوری کرکے بھاگ جائے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9030]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
الحكم: إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
حدیث نمبر: 9031 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فیصلہ کرنے میں (خصوصیت کے ساتھ) رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9031]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9032 مسند احمد
عَفَّان ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9032]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 9033 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَة ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَش ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَش ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9034 مسند احمد
عَفَّانُ ، الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9035 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيم ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيم ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " قُرَيشٌ , وَالْأَنْصَارُ , وَأَسْلَمُ , وَغِفَارٌ , وَمُزَيْنَة، وَجُهَيْنَةُ , وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ دُونَ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ مَوْلًى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9035]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3504، م: 2520
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3504، م: 2520
حدیث نمبر: 9036 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَس ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَس ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: قَالَ: زَعَمَ ذَاكَ ثُمَامَةُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَالْآخَرِ دَوَاءً" ، وَقَالَ عَفَّان مَرَّةً:" فَإِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9036]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5782، له إسنادان: الأول منقطع ، فإن ثمامة لم يسمع من أبي هريرة ، والثاني صحيح
الحكم: حديث صحيح، خ: 5782، له إسنادان: الأول منقطع ، فإن ثمامة لم يسمع من أبي هريرة ، والثاني صحيح
حدیث نمبر: 9037 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ , فمَاتَ أَوْ مَاتَتْ , فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِد؟". قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: مَاتَ. قَالَ:" فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ". فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا. قَالَ:" فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا". قَالَ: فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاكَ، أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ رات کا وقت تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتادی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
الحكم: إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
حدیث نمبر: 9038 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَلِيفَةُ بْنُ غَالِبٍ اللَّيْثِيٍُّ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ غَالِبٍ اللَّيْثِيٍُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِِ"، قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ؟، َقَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟، قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟، قَالَ:" فَتُعِينُ ضَائِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ؟، قَالَ:" فَاحْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر جبکہ وہ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے سوال کیا کہ اسے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اس نے پوچھا کہ کس غلام کو آزاد کرنے کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس کی قیمت زیادہ ہو اور وہ مالکوں کے نزدیک زیادہ نفیس ہو اس نے کہا اگر میں غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہوں تو کیا کروں؟ فرمایا کسی مزدور کو اس کے پاؤں پر کھڑا کردو یا کسی ضرورت مند کو کما کردے دو اس نے پوچھا کہ اگر میں اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہوں تو؟ فرمایا پھر اپنے آپ کو شر اور گناہ کے کاموں سے بچا کر رکھو کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9038]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 26، م: 83
الحكم: إسناده حسن، خ: 26، م: 83
حدیث نمبر: 9039 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ، وَتَقُومُ عَاهَةٌ، إِلَّا رُفِعَتْ عَنْهُمْ أَوْ خَفَّتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب صبح والا ستارہ طلوع ہوجائے تو کھیتوں کی مصبتیں ٹل جاتی ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9039]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن