عَفَّان ، أَبُو عَوَانَة ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيل: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الطِّيَرَةُ؟ قَالَ: " لَا طَائِر"، ثَلَاثَ مَرَّات، وَقَالَ:" خَيْرُ الْفَأْلِ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! شگون بد سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں البتہ بہترین فال اچھا کلمہ ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9021]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5557، م: 2223
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5557، م: 2223