بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 3 از 194
حدیث نمبر: 7159 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ:" أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ! کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیرے باپ کی قسم! تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہو چکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
حدیث نمبر: 7160 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ، فَلَمَّا نَزَلَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ، قَالَ: أَفَمَلِكًا نَبِيًّا يَجْعَلُكَ، أَوْ عَبْدًا رَسُولًا؟ قَالَ جِبْرِيلُ: تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: بَلْ عَبْدًا رَسُولًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کی نظر آسمان پر پڑی انہوں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ اتر رہا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہنے لگے کہ یہ فرشتہ جب سے پید ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک اس وقت سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا جب وہ نیچے اتر کر آیا تو کہنے لگا اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے آپ کے رب نے آپ کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ وہ آپ کو فرشتہ بنا کر نبوت عطاء کر دے یا اپنا بندہ بنا کر رسالت عطاء کر دے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رب کے سامنے تواضع اختیار کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ مجھے بندہ بنا کر رسالت عطاء کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7161 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةُ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ، آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَلِكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4635، م : 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4635، م : 157
حدیث نمبر: 7162 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةُ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ"، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
حدیث نمبر: 7163 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةُ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ، أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کثرت حاصل کرنے کے لئے لوگوں سے روپے پیسے مانگتا پھرتا ہے (کہ اس کے پاس پیسوں کی تعداد زیادہ ہو جائے) تو وہ یاد رکھے کہ وہ انگارے مانگ رہا ہے اب چاہے تھوڑے مانگے یا زیادہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1041
الحكم: إسناده صحيح، م: 1041
حدیث نمبر: 7164 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةُ ، وَجَرِيرٌ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ . وَجَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ"، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، أَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ قَالَ: أَقُولُ:" اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، قَالَ جَرِيرٌ: كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ". قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: كُلُّهَا، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ إِلَّا هَذَا، عَنْ أَبِي صَالِحٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں یہ بتائیے کہ آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا فرما دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف فرمادے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے اے اللہ مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولوں سے دھو کر صاف فرما دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
الحكم: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
حدیث نمبر: 7165 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ ضَوْءِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ، وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ، أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ، فِي طُولِ سِتِّينَ ذِرَاعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہو گا یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہو گا۔ ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی ان سب کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق کی مانند ہوں گے۔ وہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر اور ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7165]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان ذكر أبى صالح فيه محفوظا، خ: 3254، م: 2834
الحكم: إسناده صحيح إن كان ذكر أبى صالح فيه محفوظا، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 7166 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ، وَهِيَ تُبْنَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً". ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَيْنِ، فَلَمَّا غَسَلَ رِجْلَيْهِ، جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ إِلَى السَّاقَيْنِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا مَبْلَغُ الْحِلْيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزرعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان بن حکم کے گھر میں داخل ہوا وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کچھ تصاویر نظر آئیں وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو کا دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اور اپنے بازؤوں کو دھوتے ہوئے کہنیوں سے بھی آگے بڑھ گئے اور جب پاؤں دھونے لگے تو ٹخنوں سے آگے بڑھ کر پنڈلیوں تک پہنچ گئے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ زیور کی انتہاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7559، م: 2111
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7559، م: 2111
حدیث نمبر: 7167 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان عمل میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6406، م: 2694
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6406، م: 2694
حدیث نمبر: 7168 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي، وَقَالَ ابْنُ فُضَيْلٍ مَرَّةً: يَتَخَيَّلُ بِي، وَإِنَّ رُؤْيَا الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ الصَّادِقَةَ الصَّالِحَةَ، جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے اسے یقین کر لینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7168]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 6993، م: 2266
الحكم: إسناده قوي، خ: 6993، م: 2266
حدیث نمبر: 7169 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، رَجُلٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار، اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7169]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه الأعمش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه الأعمش
حدیث نمبر: 7170 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7170]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 38، م: 760
الحكم: إسناده صحيح، خ: 38، م: 760
حدیث نمبر: 7171 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِي ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، كَيْلًا بِكَيْلٍ، وَوَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَنْ زَادَ، أَوْ أَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَ أَلْوَانُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گندم کو گندم کے بدلے جو کو جو کے کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر ماپ کر یا وزن کر کے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافہ کا مطالبہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا الاّ یہ کہ اس کا رنگ مختلف ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1588
الحكم: إسناده صحيح، م: 1588
حدیث نمبر: 7172 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کا اول وقت بھی ہوتا ہے اور آخر وقت بھی چنانچہ ظہر کا اول وقت زوال شمس کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخروقت نماز عصر کا وقت داخل ہونے تک ہوتا ہے۔ عصر کا اول وقت اس کا وقت داخل ہونے پر ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت سورج کے پیلا پڑنے تک ہوتا ہے۔ مغرب کا اول وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت افق کے غائب ہونے تک ہوتا ہے۔ نماز عشاء کا اول وقت افق کے غائب ہونے کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخر وقت نصف رات تک ہوتا ہے اور فجر کا اول وقت طلوع فجر کے وقت ہوتا ہے اور اس کا آخروقت طلوع آفتاب تک ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7173 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِي ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَيْتِي قُوتًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گزارہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 7174 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ضِرَارٌ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وأبى سعيد ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:" إِنَّ الصَّوْمَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ: إِذَا أَفْطَرَ، فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ، فَرِحَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب بھی وہ خوش ہو گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1055
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1055
حدیث نمبر: 7175 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545
حدیث نمبر: 7176 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ، فَلْيَبْدَأْ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7176]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 768
الحكم: إسناده صحيح، م: 768
حدیث نمبر: 7177 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ؟ فقَالَ:" إِنْ كَانَ جَامِدًا، فَخُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، ثُمَّ كُلُوا مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا، فَلَا تَأْكُلُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں مر جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کر لو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7177]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ فى إسناده، فقد خالفه أصحاب الزهري انظر : خ: 5538، وأخطأ فى متنه أيضا. فزاد : وإن كان مائعا فلا تأكلوه
الحكم: متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ فى إسناده، فقد خالفه أصحاب الزهري انظر : خ: 5538، وأخطأ فى متنه أيضا. فزاد : وإن كان مائعا فلا تأكلوه
حدیث نمبر: 7178 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، ضَمْضَمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ". فَقُلْتُ لِيَحْيَى: مَا يَعْنِي بِالْأَسْوَدَيْنِ؟ قَالَ:" الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جا سکتا ہے۔ راوی نے اپنے استاذ یحییٰ سے دو کالی چیزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی وضاحت سانپ اور بچھو سے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح