بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 191 از 194
حدیث نمبر: 10920 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ بْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ , وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ , وَزِنَا الرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ , وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ , وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى , وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ" , وَحَلَّقَ عَشْرَةً , ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا , يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6612، م:2657
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6612، م:2657
حدیث نمبر: 10921 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ , نِسَاءُ قُرَيْشٍ , أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ , وَأَرْأَفُهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ" , ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبْ الْإِبِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) نے کبھی اونٹ پر سواری نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 10922 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، يَحْيَى يَعْنِي بْنَ أَيُّوبَ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي بْنَ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَفَرَّقُ الْمُتَبَايِعَانِ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کسی بھی معاملے میں اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک باہمی رضامندی نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10922]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .
حدیث نمبر: 10923 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدٍ لَهَا مَرِيضٍ يَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ وَالْعَافِيَةِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ مَاتَ لِي ثَلَاثَةٌ , قَالَ:" فِي الْإِسْلَامِ؟" , قَالَتْ: فِي الْإِسْلَامِ , فَقَالَ: " ما من مُسلِمٍ يُقَدِّمُ ثَلاثَةً في الإِسلامِ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ يَحْتَسِبُهُمْ , إِلَّا احْتَظَرَ بِحَظِرٍ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پوچھا زمانہ اسلام میں؟ اس نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین نابالغ بچے زمانہ اسلام میں فوت ہوں، اس نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10923]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 2636
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 2636
حدیث نمبر: 10924 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ , وَرَبَّ الْأَرَضِينَ , وَرَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ , وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں۔ زمین اور ہر چیز کے رب دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2713 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2713 .
حدیث نمبر: 10925 مسند احمد
حَسَن ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَسَن , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ , وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ , مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ , وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ , وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10925]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 33، م: 59، وله هنا إسنادان: الأول: صحيح،والثاني:مرسل
الحكم: حديث صحيح، خ: 33، م: 59، وله هنا إسنادان: الأول: صحيح،والثاني:مرسل
حدیث نمبر: 10926 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَهَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، زِيَادِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , وَهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , يَنْقُصُ الْعِلْمُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ" , قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ لگا ہے علم کم ہوجائے گا اور ہرج کی کثرت ہوجائے گی میں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10926]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، وهذا إسناده ضعيف لجهالة زياد،وقدتوبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 7061، م: 2672، وهذا إسناده ضعيف لجهالة زياد،وقدتوبع
حدیث نمبر: 10927 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَهَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , وَهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ , قََالَ: سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَقُولُ: لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيُوشِكَنَّ رَجُلٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ خَرَّ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا , وَأَنَّهُ لَمْ يَلِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا" . قََالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِنَّ هَلَاكَ الْعَرَبِ عَلَى أيْدِي غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ" , قَالَ: فَقَالَ مَرْوَانُ لَبِئْسَ الْغِلْمَةُ أُولَئِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10927]
حکم دارالسلام
حديث حسن، يزيد بن شريك لم نقف له على ترجمة .
الحكم: حديث حسن، يزيد بن شريك لم نقف له على ترجمة .
حدیث نمبر: 10928 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , قََالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغَارُ , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ , وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761 .
حدیث نمبر: 10929 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , عَنْ أَبَانَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَغَارُ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10929]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م:2761
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م:2761
حدیث نمبر: 10930 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلُّونَ بِكُمْ , فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ , وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ تمہیں نماز پڑھاتے ہیں اگر صحیح پڑھاتے ہیں تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور انہیں بھی اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں تو تمہیں ثواب ہوگا اور اس کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10930]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 694 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 694 .
حدیث نمبر: 10931 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ , وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ , وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ كَمَا بَيْنَ قُدَيْدٍ إِلَى مَكَّةَ , وَكَثَافَةُ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ قدید اور مکہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی اور اس کی کھال کی موٹائی جبار کے حساب سے بیالیس گز ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10931]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه، م: 2851، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن فيه كلام من جهة حفظه .
الحكم: حديث صحيح بطرقه، م: 2851، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن فيه كلام من جهة حفظه .
حدیث نمبر: 10932 مسند احمد
حَسَنٌ ، سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، الْأَشْعَثُ الضَّرِيرُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ الضَّرِيرُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً , إِنَّ لَهُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ , وَهُوَ عَلَى السَّادِسَةِ , وَفَوْقَهُ السَّابِعَةُ , وَإِنَّ لَهُ لَثَلَاثَ مِائَةِ خَادِمٍ , وَيُغْدَى عَلَيْهِ وَيُرَاحُ كُلَّ يَوْمٍ بِثَلَاثُ مِائَةِ صَحْفَةٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: مِنْ ذَهَبٍ فِي كُلِّ صَحْفَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى , وَإِنَّهُ لَيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ , وَمِنَ الْأَشْرِبَةِ ثَلَاثُ مِئَةِ إِنَاءٍ، فِي كُلِّ إِنَاءٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْآَخْرِ , وَإِنَّهُ لَيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ: يَا رَبِّ , لَوْ أَذِنْتَ لِي لَأَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَسَقَيْتُهُمْ , لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِي شَيْءٌ , وَإِنَّ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَاثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً , سِوَى أَزْوَاجِهِ مِنَ الدُّنْيَا , وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُنَّ لَيَأْخُذُ مَقْعَدُهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت میں سب سے کم درجے کے جنتی کے لئے سات درجے ہوں گے جن میں سے چھٹے پر وہ خود ہوگا اور اس کے اوپر سا تو اں درجہ ہوگا اس کے پاس تین سو خادم ہوں گے ہر روز صبح و شام اس کے سامنے تین سو ڈشیں پیش کی جائیں گی ہر ڈش کا رنگ دوسری سے مختلف ہوگا اور وہ پہلی اور آخری ڈش سے یکساں لذت اندوز ہوگا (اسی طرح مشروبات کے تین سو برتن ہوں ہر برتن کا رنگ دوسرے سے جدا ہوگا اور وہ پہلے اور آخری برتن سے یکساں لطف اندوز ہوگا) اور وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام اہل جنت کی دعوت کروں اور اس میں میرے پاس جتنی چیزیں موجود ہیں کسی کی کمی محسوس نہ ہو اور اسے دنیوی بیویوں کے علاوہ 72 حورعین دی جائیں گی جن میں سے ہر ایک کی رہائش زمین کے ایک میل کے برابر ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10932]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر،وسكين:فيه كلام
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر،وسكين:فيه كلام
حدیث نمبر: 10933 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، وَشَرِيكٌ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , وَشَرِيكٌ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَمَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ , فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . قََالَ: وَفِي حَدِيثِ شَرِيكٍ , ثُمَّ قََالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ , فَلَا يَخْرُجْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب تم مسجد میں ہو اور اذان ہوجائے تو مسجد سے نماز پڑھے بغیر نہ نکلا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة المسعودي، وقد توبع ، أما الشريك سيئ الحفظ، وقد تفرد بما رفعه إلى النبى ، فهو ضعيف .
الحكم: إسناده صحيح من جهة المسعودي، وقد توبع ، أما الشريك سيئ الحفظ، وقد تفرد بما رفعه إلى النبى ، فهو ضعيف .
حدیث نمبر: 10934 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَرِيكٌ ، الْمَسْعُودِيِّ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ , قََالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ , فَلَا يَخْرُجْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ".
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ شريك،
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ شريك،
حدیث نمبر: 10935 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ , حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ , فَذَهَبَ ثُلُثُهُ أَوْ قَرَابَتُهُ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا النَّاسُ عِزُونَ , وَإِذَا هُمْ قَلِيلٌ , قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا مَا أَعْلَمُ أَنِّي رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا دَعَا النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ , أَتَوْهُ لِذَلِكَ وَلَمْ يَتَخَلَّفُوا , وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ , لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ , وَأَتَّبِعَ هَذِهِ الدُّورَ الَّتِي تَخَلَّفَ أَهْلُوهَا عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنامؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10935]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذاإسناد حسن، خ: 657، م: 651 .
الحكم: حديث صحيح، وهذاإسناد حسن، خ: 657، م: 651 .
حدیث نمبر: 10936 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ , يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُ جُرْحِهِ لَوْنُ الدَّمِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10936]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2803،م:1876هذا اسناد ضعيف،شريك سيئ الحفظ،وقدتوبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2803،م:1876هذا اسناد ضعيف،شريك سيئ الحفظ،وقدتوبع
حدیث نمبر: 10937 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ , قََالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ؟ قََالَ: هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ , هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ , لَقَدْ" رَأَيْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ فِي نَعْلَيْهِ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10937]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسنادضعيف، شريك سيئ الحفظ، وزياد الحارثي: لا يعرف .
الحكم: صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسنادضعيف، شريك سيئ الحفظ، وزياد الحارثي: لا يعرف .
حدیث نمبر: 10938 مسند احمد
هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَمْتُمْ النَّاسَ فَخَفِّفُوا , فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالصَّغِيرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10938]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 703، م: 467 .
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 703، م: 467 .
حدیث نمبر: 10939 مسند احمد
هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ" , قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ , فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا , وَاغْدُوا وَرُوحُوا , وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ , وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے لہذا تم راہ راست پر رہو۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو صبح و شام نکلو رات کا کچھ وقت عبادت کے لئے رکھو اور میانہ روی اختیار کرو منزل مقصد تک پہنچ جاؤگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816 .