هَاشِمٌ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ , قََالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ؟ قََالَ: هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ , هَا وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ , لَقَدْ" رَأَيْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ فِي نَعْلَيْهِ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10937]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسنادضعيف، شريك سيئ الحفظ، وزياد الحارثي: لا يعرف .
الحكم: صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسنادضعيف، شريك سيئ الحفظ، وزياد الحارثي: لا يعرف .