هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ , حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ , فَذَهَبَ ثُلُثُهُ أَوْ قَرَابَتُهُ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا النَّاسُ عِزُونَ , وَإِذَا هُمْ قَلِيلٌ , قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا مَا أَعْلَمُ أَنِّي رَأَيْتُهُ غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا دَعَا النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ , أَتَوْهُ لِذَلِكَ وَلَمْ يَتَخَلَّفُوا , وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ , لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ , وَأَتَّبِعَ هَذِهِ الدُّورَ الَّتِي تَخَلَّفَ أَهْلُوهَا عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنامؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10935]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذاإسناد حسن، خ: 657، م: 651 .
الحكم: حديث صحيح، وهذاإسناد حسن، خ: 657، م: 651 .