مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدٍ لَهَا مَرِيضٍ يَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ وَالْعَافِيَةِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ مَاتَ لِي ثَلَاثَةٌ , قَالَ:" فِي الْإِسْلَامِ؟" , قَالَتْ: فِي الْإِسْلَامِ , فَقَالَ: " ما من مُسلِمٍ يُقَدِّمُ ثَلاثَةً في الإِسلامِ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ يَحْتَسِبُهُمْ , إِلَّا احْتَظَرَ بِحَظِرٍ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پوچھا زمانہ اسلام میں؟ اس نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین نابالغ بچے زمانہ اسلام میں فوت ہوں، اس نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10923]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 2636
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 2636